Wednesday, December 9, 2020

جواب



 میرے بھاٸی نے کہا ہانیمن کے زمانے میں انسان نیچرل زندگی پہ تھے انسان تو میرے بھاٸی اس وقت نیچرل زندگی پہ تھے جب وہ غار میں رہتے تھےاور ان کے پاس نہ لنگوتا نہ سوتھا تھا

دوسری بات میرے بھاٸی نے کی انسان نیچر سے دور ہے تو کیا آج کی عورت  بچے کو اس جگہ سے نہیں جنم دیتی ہے إ جہاں سے غار کی عورت جنم دیتی تھی کیا آج بھی بچے کی پیداٸش کا وہ ہی نیچر طریقہ نہیں ہے آج بھی انسان کی اناٹمی اور فزیالوجی وہ ہی نہیں ہے  کیا واٸٹل فورس بھی وہ  نہیں رہی جو غار کے انسان کی تھی  نوٹ کر لیں میرے بھاٸی ہومیوپیتھی کی بنیاد  واٸٹل فورس پر ہے اور ہومیوپیھ واٸٹل فورس کا علاج کرتا ہے علاج میں جسم کے اپنے دفاع کو مضبوط بنانا اور ان توازن کو بحال کرنا شامل ہے

 آپ نے کہا ”ہر کیس سنگل ریمیڈی سے حل نہیں ہوتا“  میرے بھاٸی سنگل ریمیڈی باذات خود  بھر پور قدرتی  اجزاء  سے مالا مال ہے اس میں کٸی فائیٹو کیمیکلز ; منرلز; وٹامنز; کاربوہائیڈریٹ ; پروٹین اور امینو ایسڈز اور دیگر کا کمپلیکس کمبینیشن ہے اگر(سورس نباتاتی یا حیواناتی ہوں)

سینگل میڈیشن میں قدرتی بہت سارے اجزاء ہوتے ہیں یہ ایک قدرتی کمبینیشن ہوتا ہے اس میں اپنی طرف سے کیمیا گری کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دوسری ادویات کے ساتھ کمبینیشن بنایا جاٸے تو ہر دوا اپنی شفاٸی افادیت کھو دیتی ہے اور نیا کمبینیشن نقصان دے بھی ہوسکتا ہے

ہرسنگل ریمیڈی کی ہومیوپیتھ نے انفرادی طور پر پروونگ کی اور پھر مختلف ہومیوپیتھس نے اس

دوا کی پروونگ کا تمام ریکارڈ بنائی جانے والی دوا کن کن مریضوں پر استعمال کروائی گئی اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے ان کا تمام ریکارڈ 

 ریمیڈی کے کلینیکل رزلت  اور پروف دوا کن کن مریضوں پر استعمال کروائی گئی کرنے کے بعد اس کو ہومیوپیتھک فارماکوپیا  میں  میں شامل کیا  جبکہ ہومیوپیتھک کمبینیشن کی  کوٸی پروونگ نہیں ہوٸی بلکہ یہ ایڈورٹاٸیزنگ کے  زور پر مریضون کی لوٹ مار کر رہے ہیں 

جاندارون میں قدرت نے ایسے سسٹم اور جین رکھے ہیں جو انسانی جسم کو سردی گرمی  اور موسمی تغیرات ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھتے ہیں

انسانی جسم کا اپنا سرواول میکنیزم اور وزیڈم ہے جب ہم کچھ کھاتے ہیں تو  سونگھنے کی حس فوراًچیک کرتی ہے  اگر دماغ  پسند نہ  کرے ہاتھ روک جاتا ہےاگر کھانا منہ میں ڈالتے  ہیں تو ذائقہ کی حس چیک کرتی ہےذائقہ ٹھیک نہ ہو فوراً تھوک دیتے یا اگل دیتے ہیں اگر ان حسوں  سے غذا پاس ہو جاۓ تو  کھانا معدے میں پہنچ جاتا ہے معدے میں  اپنے  سنسرز ہوتے ہیں  اگرغذا ضرر رسان ہو تو معدے کا ریفلکس ایکشن ہوتا ہے التیاں کی شکل  میں تمام کھایا پیا باہر آجاتا ہے اگر پھر بھی بچی کچی زہریلی  غذا کچھ آنتوں  تک پہنچ جاتی ہے تو آنتوں  کے سنسرز  زہریلی  غذا کے زہر کو بلاک کرنے کے لئے پانی کی طرح اسہال لگا دیتے ہیں یعنی دست  لگ جاتے جسم کا سرواول  وزیڈم  اور دماغ معدے اورآنتوں کواچھی طرح واش کردیتے ہیں اگر پھر بھی کچھ زہریلا پن آنتوں  سے نکل کر جسم کے خون میں  شامل ہوجاتا ہے تو جسم کا دفاعی  وزیڈم ہی تو ہے جو اس ٹاکسن کو خون سے نکال کر دھپڑون کی  شکل میں باہر جلد پر پھنک کر ٹاکسن کو لوکلایز کر دیتا ہے اور جسم  کےواٸٹل اورگن خاص کر دماغ کے خلیات کو محفوظ رہتے ہیں

 ہر خلیہ کی محافظ واٸٹل فورس ہی تو ہے اور واٸٹل فورس کا علاج سنگل ریمیڈی کی پوٹینسی سے ہوتا ہے کمبینیشن سے نہیں

رہا ایلوپیتھک کا ایلوپیتھک دنیا  کے ممالک کا آفیشلز علاج ہے اس کی افادیت اپنی جگہ ہے ہومیوپیتھی 

الٹرنیٹو اینڈ کمپلیمنٹری میڈیسن ہیں ان کا ایلوپیتھی سے کوٸی مقابلہ نہیں ہومیوپیتھی دنیا میں سنگل ریمیڈی کے نام سے جانی جاتی ہے اسی لٸے دنیا بھر میں پاپولر ہے شکریہ

فتحیاب علی سید  ہومیوپیتھ