Friday, October 12, 2018

اروپوربیا ٹریونا

                                                                                                                                                                   اروپوربیا ٹریونا       

 

اروپوربیا ٹریونا  کو مقامی  وسطی افریقی دودھ کے درخت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے یہ پودا برصغیر میں ہر جگہ اور پوری دُنیا میں پھیل چکا ہے اروپوربیا ٹریونا  رسیلا کیکٹسس ایک سیدھاسلیم پلانٹ ہے  1.5 - 3 میٹرتک بڑھتا ہے جو تین یا  چار اطراف میں چورس ہے ہلکے سبز پیٹرن کے ساتھ ہی سیاہ سبز  پتیوں میں ہر ریز  پر دو کانٹوں کے درمیان سے بڑھ جاتیں    ہیں سیدھے اوپر کو بڑھتی ہیں اور شاخوں کی تعداد بھی  اوپر کو     بڑھتی ہے سٹیم اور شاخیں  سیدھا اوپر کو بڑھتی ہیں سٹیم اور شاخیں دو یا تین  اطراف میں ہوتیں ہیں   ہر قطار کے دو کناروں کے درمیان ڈھونڈے ہوئے پتے بڑھتے ہیں اس پودے کے حصے جو زمین سے اوپر بڑھتے ہیں  دوا  بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں  اس  کی  کئی   اقسام ہیں سجاوٹی پودوں کے طور پر یورپین ممالک کے درمیان مقبول ہو گئےہیں ریتلی  مٹی میں خوب  پروان   چڑھتا  ہے یہ کیڑوں مکوڑوں سےفری پلانٹ ہے زہریلا ہے اور  چھونے سے جلدی جلن پیدا ہو سکتی ہے

اروپوربیا ٹریونا  کی  پھولوں اور جڑوں میں ادوایاتی   خصوصیات موجود ہیں جبکہ بعض حصوں کو اس کےادوایات  بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن لیٹیکس کافی زہریلا ہے جلد اور جسم کونقصان پہنچا سکتا ہےاس سے محفوظ رہنا  چاہیے

اروپوربیا ٹریونا  اور دیگرجڑی بوٹی پر   کام   کرنے اورسنبھالنے کےلئے دستانے پہننے  ضروری ہیں پلانٹ کے تقریبا تمام حصوں کی طبی اہمیت ہے جب ایک پتی یا سٹیم کا حصہ کاٹ جائے  تو دودھ باہر  بہے نکل پڑتا ہے

غذائیت  

سوڈیم، پوٹاشیم، کیلشیم، اور لتیم  پلانٹ میں بیٹا کیروٹین، وٹامن سی، اور فینولوکس بھی شامل ہیں

اروپوربیا ٹریونا  کےحصے جو زمین سے اوپر بڑھتے ہیں وہ  دوا بننے کے لئے استعمال ہوتے ہیں اروپوربیا ٹریونا  دمہ  ؛برونچائٹس اور سینے کی  بیماریوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہےیہ ناک اور حلق، گلے ؛گھاس بخار  استعمال کیا جاتا ہے

سائنسدانوں نے مظاہرہ کیا ہے کہ خالص پروٹین کئی ٹیومر سیل لائنوں کے ا ضافہ کو روک سکتی ہے اس پراپرٹی سے پتہ چلتا ہے کہ اس پودے کے لیٹیکس پروٹین  جو  بہت تیز ہوتی ہے  یہ ٹیومر کے خلاف اور کینسر کے علاج کے لئے کلینیکل ٹرائلز پر غور کیا جا رہا ہے بیکٹیریا کے خلاف دفاعی نظام کو بہتر بنانے اور تشخیص اور علاج کے لئے بائیوڈیسکین میں بایوکیکٹو پروٹین پلانٹ سےنکالا  لیکٹک ایک فعال مادہ ہے  جو اسکوڈور اور اسوریل کے طور پر مانا جاتا ہے کینسر کے علاج میں استعمالہوتاہے

  لیکٹینس اینٹی ویرل، اینٹی بیکٹیریل، اینٹی فنگل اور کیڑے مار کے طور پر استعمال ہورہی ہے

اروپوربیا ٹریونا  بڑے پیمانے پر سانس کے راستے کو صاف کرنے اور دمہ کے علاج کے لئے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے اس میں برونکو-نکاسی اثر ہوتا ہے  بیماریوں کے علامات کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے

اروپوربیا ٹریونا  جڑی بوٹیوں کا عام طور پر برونائٹس اور دمہ سے متعلق مسائل کا علاج کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے یہ بھی خیال ہے کہ سردی اور فلو کے ساتھ منسلک علامات سے ریلیف فراہم کی جاتی ہے دیگر صحت کے فوائد اور پھول سے بنائی گئی آنکھ میں انفیکشن اور بیماریوں جیسے کنجیوٹائیوٹائٹس کا علاج کر سکتا ہے

اروپوربیا ٹریونا  اینٹی امینٹک خصوصیات کے لئے بھی جانا جاتا ہے  اور یہ کیڑے اور دیگر پرجیوی حیاتیات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے باد مہرہ کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ڈینگی بخار کے معاملات میں شفا یابی کو فروغ دینے کے لئے اس  پلانٹ کا استعمال  کیا  جاتا ہے دودھ پالنے والی ماؤں میں دودھ کی پیداوار کو فروغ دینے کے لئے اروپوربیا ٹریونا  اچھا سمجھا جاتا ہے

سوزاک اور امراض خبیثہ بیماریوں کے علاج میں اروپوربیا ٹریونا  استعمال کیا جا سکتا ہے قبل از وقت انزال اور دیگر جنسی امراض کے علاج میں مفید ہے 

اروپوربیا ٹریونا  اینٹی وائرل خصوصیات پیچش اور اسہال کے علاج میں استعمال کیا گیا ہے اور علامات کو کم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے.

اروپوربیا ٹریونا  چینی ادویات میں جڑی بوٹیوں سے جسم   سے پانی نکالنا اور اس طرح لیمف نوڈس کی ادیمہ اور سوزش کو کم کرنے لئے استعمال کیا جاتا ہے

 احتیاطی تدابیر / سائڈ اثرات / انتباہات
مختلف قسم کے دواؤں کی خصوصیات کے ساتھ جڑی بوٹیوں کے کسی بھی پلانٹ کا استعمال صرف طبی پریکٹیشنر کی نگرانی کے تحت ہی کیا جانا چاہئے
.

ہیومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید  بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی (نیشنل کونسل
 فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان)
رجسٹریشن نمبر 9027

تھراپیز٭غذااور غذائیت٭ ہیومیوپیتھی٭ ہربل میڈیسن٭ کلینیکل Meditation طبی 



Monday, March 23, 2015

پکا ہوا پپیتا پھل اور کچا بطور سبزی استعمال ہوتا ہے

غذائی اعتبار سے پپیتا پھلوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ پکا ہوا پپیتا پھل اور کچا بطور سبزی استعمال ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، سی، ای، فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیم، کاربوہائیڈریٹ اور دیگر غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت پر موثر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پپیتا قبض کشاء پھل ہے جس میں فائبر کی موجودگی کولیسٹرول لیول کم کرنے کا سبب بنتی ہے
پپیتا فائبر سے بھرپور پھل ہے، اس میں کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، اس میں موجود اینزائم کولیسٹرول کی آکسیڈائزیشن سے بھرپور تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس سے دل کے دورے کے خدشات کم ہوتے ہیں۔ پپیتے میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ انسان کی بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرتا ہے۔ پپیتے کے بیجوں میں ادویاتی اثرات پائے جاتے ہیں، یہ انٹسٹائن میں ہونیوالے کیڑوں کے خاتمے میں مدد کرتے ہیں، یہ ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور قبض کشا ہے۔ اس میں موجود پاپائن اینزائم ہاضمے کا اینزائم ہے جو غذا کو قدرتی طریقے سے ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ پپیتے کا جوس پس اور میوکس صاف کر کے بڑی آنت کے انفیکشن کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ جلد کے ایسے انفکیشن اور زخم جو ٹھیک نہ ہو رہے ہوں پپیتے کے استعمال سے یہ زخم جلدی بھر جاتے ہیں۔ حاملہ خواتین روزانہ اس کا استعمال کریں تو انہیں متلی اور صبح کے وقت طبیعت کے بوجھل پن کی شکایت نہیں ہوتی۔ پپیتے میں اینٹی انفلامیٹری اینزائم بھی پائے جاتے ہیں جو جوڑوں کی سوزش اور سوجن سے ہونے والے درد میں آرام پہنچاتا ہے۔ اس میں کینسر سے تحفظ فراہم کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ پپیتا وٹامن اے اور سی سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم میں قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے اور بخار و فلو کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔ سر کی خشکی کو ختم کرتا ہے۔ پپیتے کے استعمال سے چہرے کے دانے ختم ہو جاتے ہیں۔ لڑکیاں اسے فیس پیک کے طور پر لگاتی ہیں جس سے چہرے کے بند مسام کھل جاتے ہیں۔ یہ مردہ سیل ہٹا کرچہرہ کو نکھارتا ہے۔ پپیتے کی افادیت کے مدنظر طبی ماہرین اسے ہفتے میں کم از کم ایک بار استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ اسے فروٹ سلاد کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے جلدی امراض کے لئے اسے براہ راست جلد پر بھی لگایا جاسکتا ہے

مریکی ماہرین نے دل کے مریضوں کیلئے پپیتا فائیدہ مند قرار دیا ہے۔ امریکی ماہرین کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایسے لوگوں جن کو دل کی بیماری لاحق ہے کو چاہئے کہ پپیتے کا استعمال کریں کیونکہ یہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھتا ہے اور دل کی شریانوں میں چربی کو جمنے نہیں دیتا۔ یہ خون کی روانی کو بہتر کرتا ہے جس کے نتیجہ میں ہارٹ اٹیک سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ پپیتا کھا کر دل کی صحت کو برقرار رکھ کر صحت مند اور فعال زندگی گزارنا ممکن ہے۔گرم خشک مزاج کے حامل پپیتے کا شمار زرد سبزیوں میں ہوتا ہے اور پپیتا کیروٹین کا بہترین ذریعہ ہے‘ پپیتا کینسر کے مریض کیلئے شفا بخش ہے‘ کینسر کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ پپیتے کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ پپیتے میں ہضم کرنے والے خامرے بھی موجود ہوتے ہیں یہ قبض کے مریضوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ پپیتے میں پایا جانے والا کیروٹین جسم میں جا کر حیاتین الف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی تجزئیے کے مطابق 100گرم پپیتہ میں 20یونٹ وٹامن اے ‘42یونٹ وٹامن سی اور 45یونٹ وٹامن بی ٹو کے علاوہ 70گرام پروٹین اور 40حرارے (کلوریز) بھی ہوتے ہیں۔ طیب یونانی کے ماہرین پپیتہ کے بیجوں کو اپنی مختلف دواں میں بھی استعمال کرتے ہیں جو صحت کیلئے شفا بخش ہوتی ہیں۔ اس میں (وٹامن اے) کے علاوہ کیلشیم‘ فولادفولک ایسڈ اور حیاتین بھی ملتا ہے جس سے جسم میں امراج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکماءاس پھل سے قے واسہال‘ ہیضہ درد معدہ امعا کو دور کرنے کے لئے بطور دو استعمال کرواتے ہیں مخرج بلغم ہونے کی وجہ سے کھانسی ضیق نفس کے لئے مفید ہے۔ اس کے علاوہ بواسیر جوڑوں کے دردفالج اور بالخصوص ڈینگی بخار کے لئے بھی اس کا استعمال بے حد مفید ثابت ہوا ہے۔
https://www.facebook.com/pages/Homeopathynutritionherbs/138439162917723?

Saturday, March 7, 2015

اجوائن گھریلو جڑی بوٹی

   اجوئن خراسانی جنگلی جڑی بوٹی
 Hyoscyamus Niger  L    ہیومیوپیتھک ریمڈی 
کشمیر، بلوچستان اور ایران میں بھی کاشت کی جاتی ہے
دیسی اجوائن گھریلو جڑی بوٹی جو گھریلو طور بھی کاشت کی جاتی ہے
اجوائن دیسی کے پتے کچھ کچھ دھنیا کے پتوں سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ ان میں سے تھوڑی سی تیزی اورتلخی ہوتی ہے۔اس کا پو دا سوئے کے پو دے کی طر ح ہو تاہے ۔ جبکہ اس کے چھو ٹے چھوٹے ، سفید چھتری کی طر ح ملے ہوئے پھول ہو تے ہیں ۔ پھولوں کے بعد چھوٹے چھوٹے بیج لگتے ہیں۔ اور یہی اجوائن دیسی کے دانے کہلاتے ہیں
نظام انہضام میں مختلف خصوصیات کے طور پر یونانی ادویات کی  تیاری میں استعمال کی جاتی ہے
پاکستان ادویاتی پودوں کی قدرتی عطا کردہ دولت سے مالامال ہے. پاکستان میں مقامی طور پر فارماسیوٹیکل گھریلو دوا سازی قدرتی نباتیات کے ذریعے کی جا رہی ہے جدید دواسازی کی مارکیٹ   بنیادی ذریعہ  بن گئی  ہے پاکستان بھی ادوئیاتی پودوں کی طبی دنیا بنتا جا رہا ہے اس وقت ہمارے دیہی علاقوں کے سب سے زیادہ بیماریوں کے علاج کے لئے عام دیسی قدرتی ادویات  کواستعمال کیا جا رہا ہے  کیوں کہ ایک عام آدمی انگریزی ادویات کی بلند قیمتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا عام دیسی قدرتی ادویات کی فراہمی میں خود مختار بن رہے ہیں ہماری ادوئیاتی پودوں کی صنعت ترقی کر رہی ہے ہمارے ملک اور برصغیر میں صدیوں  سےجنگلی جڑی بوٹیوں کی بھرمار ہے ادویاتی پودوںکی مختلف اقسام کی انتہائی جدید اسکریننگ کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے ان کو الگ تھلگ کر  کےکاشت کیا جا رہا ہے.
زمانہ قدیم سے مختلف جڑی بوٹیوں کی حیاتیاتی سرگرمیوں کو ظاہر کرتا  ہےروایتی دیسی  طب اجوائن کی ادویاتی صلاحیت پر روشنی ڈالتی ہےاس کی مخفی شفا یابی قوتوں کوتحقیق شناسی سے ایشیا اور دنیا میں ادویات کے روایتی نظام میں جڑی بوٹیوں کا عام استعمال کیا جاتا ہے
ہومیوپیتھک،، یونانی یا مشرقی طب کے نظام میں عظیم صلاحیتوں کے مالک ہیں ہومیوپیتھک،، یونانی یا مشرقی طب میں تحقیق شناسی سے ایشیا اور دنیا میں دیسی قدرتی ادویات کے روایتی نظام میں پودوں کا دواؤں  میں عام استعمال کیا جارہا ہے
جڑی بوٹیاں کی کارکردگی کا مظاہرہ اور پودوںسے دواؤں تک ایک تحقیق کے مطابق
استعمال کیا جا رہا ہے ہومیوپیتھک, یونانی یا مشرقی طب  کے متحرک ہربل مرکبات ہمارے ملک میں دیگر عرب  ممالک میں بلکہ پوری دنیا میں مقبول ہیں
ہومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)
ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی رجسڑیشن 9027
نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان
زمانہ قدیم سے مختلف جڑی بوٹیوں کی حیاتیاتی سرگرمیوں کو ظاہر کرتا  ہےروایتی دیسی  طب اجوائن کی ادویاتی صلاحیت پر روشنی ڈالتی ہےاس کی مخفی شفا یابی قوتوں کوتحقیق شناسی سے ایشیا اور دنیا میں ادویات کے روایتی نظام میں جڑی بوٹیوں کا عام استعمال کیا جاتا ہے