CLINICAL FORM PLEASE FILL

CLINICAL FORM PLEASE FILL
ہیپاٹائٹس مخصوص علاج: تازہ سفید مشروم 10 گرام روزانہ تین بار کھائیں 100گرام تازہ انگورکوآدھا لیٹر پانی میں ابال کرجب نصف پانی سے کم رہ جائے روزانہ اسکو تین دفعہ کر کے پیئں ہیپاٹائٹس میں غذائی ٹانک جڑی بوٹیاں 1جنسینگ2 ایلفالفا3 رئمیز اوفئکانا 4 اچاناکیا پرپوریا ہیپاٹائٹس سی کے مریض کے لۓ اکسیر ہو میو پیتھک اور غذا ئی علاج Carduus Marianus کآردووس مآریانوس Ceanothus کینوتوس Chenanthusچاننٹہوس Chelidonium چالادونیوم تازہ جڑی بوٹیاں اور سبزیاں گاجر؛ادرک کی جڑ؛لال پیاج؛لہسن؛دھنیا؛اجمود؛گوبھی (سرخ اور جامنی)؛ چقندر ؛پودینہ؛ایلو ویرا کا پانی پھل سیب؛اورینج ؛ لائم؛نیبو؛ مصالحہ جات لونگ؛ تلسی؛اجوائن؛ٹکسال

Your case will be consider AS FREE consultation.

Monday, March 23, 2015

پکا ہوا پپیتا پھل اور کچا بطور سبزی استعمال ہوتا ہے

غذائی اعتبار سے پپیتا پھلوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ پکا ہوا پپیتا پھل اور کچا بطور سبزی استعمال ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، سی، ای، فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیم، کاربوہائیڈریٹ اور دیگر غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت پر موثر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پپیتا قبض کشاء پھل ہے جس میں فائبر کی موجودگی کولیسٹرول لیول کم کرنے کا سبب بنتی ہے
پپیتا فائبر سے بھرپور پھل ہے، اس میں کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، اس میں موجود اینزائم کولیسٹرول کی آکسیڈائزیشن سے بھرپور تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس سے دل کے دورے کے خدشات کم ہوتے ہیں۔ پپیتے میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ انسان کی بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرتا ہے۔ پپیتے کے بیجوں میں ادویاتی اثرات پائے جاتے ہیں، یہ انٹسٹائن میں ہونیوالے کیڑوں کے خاتمے میں مدد کرتے ہیں، یہ ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور قبض کشا ہے۔ اس میں موجود پاپائن اینزائم ہاضمے کا اینزائم ہے جو غذا کو قدرتی طریقے سے ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ پپیتے کا جوس پس اور میوکس صاف کر کے بڑی آنت کے انفیکشن کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ جلد کے ایسے انفکیشن اور زخم جو ٹھیک نہ ہو رہے ہوں پپیتے کے استعمال سے یہ زخم جلدی بھر جاتے ہیں۔ حاملہ خواتین روزانہ اس کا استعمال کریں تو انہیں متلی اور صبح کے وقت طبیعت کے بوجھل پن کی شکایت نہیں ہوتی۔ پپیتے میں اینٹی انفلامیٹری اینزائم بھی پائے جاتے ہیں جو جوڑوں کی سوزش اور سوجن سے ہونے والے درد میں آرام پہنچاتا ہے۔ اس میں کینسر سے تحفظ فراہم کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ پپیتا وٹامن اے اور سی سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم میں قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے اور بخار و فلو کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔ سر کی خشکی کو ختم کرتا ہے۔ پپیتے کے استعمال سے چہرے کے دانے ختم ہو جاتے ہیں۔ لڑکیاں اسے فیس پیک کے طور پر لگاتی ہیں جس سے چہرے کے بند مسام کھل جاتے ہیں۔ یہ مردہ سیل ہٹا کرچہرہ کو نکھارتا ہے۔ پپیتے کی افادیت کے مدنظر طبی ماہرین اسے ہفتے میں کم از کم ایک بار استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ اسے فروٹ سلاد کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے جلدی امراض کے لئے اسے براہ راست جلد پر بھی لگایا جاسکتا ہے

مریکی ماہرین نے دل کے مریضوں کیلئے پپیتا فائیدہ مند قرار دیا ہے۔ امریکی ماہرین کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایسے لوگوں جن کو دل کی بیماری لاحق ہے کو چاہئے کہ پپیتے کا استعمال کریں کیونکہ یہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھتا ہے اور دل کی شریانوں میں چربی کو جمنے نہیں دیتا۔ یہ خون کی روانی کو بہتر کرتا ہے جس کے نتیجہ میں ہارٹ اٹیک سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ پپیتا کھا کر دل کی صحت کو برقرار رکھ کر صحت مند اور فعال زندگی گزارنا ممکن ہے۔گرم خشک مزاج کے حامل پپیتے کا شمار زرد سبزیوں میں ہوتا ہے اور پپیتا کیروٹین کا بہترین ذریعہ ہے‘ پپیتا کینسر کے مریض کیلئے شفا بخش ہے‘ کینسر کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ پپیتے کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ پپیتے میں ہضم کرنے والے خامرے بھی موجود ہوتے ہیں یہ قبض کے مریضوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ پپیتے میں پایا جانے والا کیروٹین جسم میں جا کر حیاتین الف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی تجزئیے کے مطابق 100گرم پپیتہ میں 20یونٹ وٹامن اے ‘42یونٹ وٹامن سی اور 45یونٹ وٹامن بی ٹو کے علاوہ 70گرام پروٹین اور 40حرارے (کلوریز) بھی ہوتے ہیں۔ طیب یونانی کے ماہرین پپیتہ کے بیجوں کو اپنی مختلف دواں میں بھی استعمال کرتے ہیں جو صحت کیلئے شفا بخش ہوتی ہیں۔ اس میں (وٹامن اے) کے علاوہ کیلشیم‘ فولادفولک ایسڈ اور حیاتین بھی ملتا ہے جس سے جسم میں امراج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکماءاس پھل سے قے واسہال‘ ہیضہ درد معدہ امعا کو دور کرنے کے لئے بطور دو استعمال کرواتے ہیں مخرج بلغم ہونے کی وجہ سے کھانسی ضیق نفس کے لئے مفید ہے۔ اس کے علاوہ بواسیر جوڑوں کے دردفالج اور بالخصوص ڈینگی بخار کے لئے بھی اس کا استعمال بے حد مفید ثابت ہوا ہے۔
https://www.facebook.com/pages/Homeopathynutritionherbs/138439162917723?

Saturday, March 7, 2015

اجوائن گھریلو جڑی بوٹی

   اجوئن خراسانی جنگلی جڑی بوٹی
 Hyoscyamus Niger  L    ہیومیوپیتھک ریمڈی 
کشمیر، بلوچستان اور ایران میں بھی کاشت کی جاتی ہے
دیسی اجوائن گھریلو جڑی بوٹی جو گھریلو طور بھی کاشت کی جاتی ہے
اجوائن دیسی کے پتے کچھ کچھ دھنیا کے پتوں سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ ان میں سے تھوڑی سی تیزی اورتلخی ہوتی ہے۔اس کا پو دا سوئے کے پو دے کی طر ح ہو تاہے ۔ جبکہ اس کے چھو ٹے چھوٹے ، سفید چھتری کی طر ح ملے ہوئے پھول ہو تے ہیں ۔ پھولوں کے بعد چھوٹے چھوٹے بیج لگتے ہیں۔ اور یہی اجوائن دیسی کے دانے کہلاتے ہیں
نظام انہضام میں مختلف خصوصیات کے طور پر یونانی ادویات کی  تیاری میں استعمال کی جاتی ہے
پاکستان ادویاتی پودوں کی قدرتی عطا کردہ دولت سے مالامال ہے. پاکستان میں مقامی طور پر فارماسیوٹیکل گھریلو دوا سازی قدرتی نباتیات کے ذریعے کی جا رہی ہے جدید دواسازی کی مارکیٹ   بنیادی ذریعہ  بن گئی  ہے پاکستان بھی ادوئیاتی پودوں کی طبی دنیا بنتا جا رہا ہے اس وقت ہمارے دیہی علاقوں کے سب سے زیادہ بیماریوں کے علاج کے لئے عام دیسی قدرتی ادویات  کواستعمال کیا جا رہا ہے  کیوں کہ ایک عام آدمی انگریزی ادویات کی بلند قیمتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا عام دیسی قدرتی ادویات کی فراہمی میں خود مختار بن رہے ہیں ہماری ادوئیاتی پودوں کی صنعت ترقی کر رہی ہے ہمارے ملک اور برصغیر میں صدیوں  سےجنگلی جڑی بوٹیوں کی بھرمار ہے ادویاتی پودوںکی مختلف اقسام کی انتہائی جدید اسکریننگ کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے ان کو الگ تھلگ کر  کےکاشت کیا جا رہا ہے.
زمانہ قدیم سے مختلف جڑی بوٹیوں کی حیاتیاتی سرگرمیوں کو ظاہر کرتا  ہےروایتی دیسی  طب اجوائن کی ادویاتی صلاحیت پر روشنی ڈالتی ہےاس کی مخفی شفا یابی قوتوں کوتحقیق شناسی سے ایشیا اور دنیا میں ادویات کے روایتی نظام میں جڑی بوٹیوں کا عام استعمال کیا جاتا ہے
ہومیوپیتھک،، یونانی یا مشرقی طب کے نظام میں عظیم صلاحیتوں کے مالک ہیں ہومیوپیتھک،، یونانی یا مشرقی طب میں تحقیق شناسی سے ایشیا اور دنیا میں دیسی قدرتی ادویات کے روایتی نظام میں پودوں کا دواؤں  میں عام استعمال کیا جارہا ہے
جڑی بوٹیاں کی کارکردگی کا مظاہرہ اور پودوںسے دواؤں تک ایک تحقیق کے مطابق
استعمال کیا جا رہا ہے ہومیوپیتھک, یونانی یا مشرقی طب  کے متحرک ہربل مرکبات ہمارے ملک میں دیگر عرب  ممالک میں بلکہ پوری دنیا میں مقبول ہیں
ہومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)
ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی رجسڑیشن 9027
نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان
زمانہ قدیم سے مختلف جڑی بوٹیوں کی حیاتیاتی سرگرمیوں کو ظاہر کرتا  ہےروایتی دیسی  طب اجوائن کی ادویاتی صلاحیت پر روشنی ڈالتی ہےاس کی مخفی شفا یابی قوتوں کوتحقیق شناسی سے ایشیا اور دنیا میں ادویات کے روایتی نظام میں جڑی بوٹیوں کا عام استعمال کیا جاتا ہے

Friday, January 23, 2015

بندر کیا جانے ادرک کا سواد ۔

 بندر کیا جانے ادرک کا سواد ۔
ادرک ایک قسم کی خوشبودار اور ہاضم جڑ جو خشک ہو کر سونٹھ بن جاتی ہے
ادرک برصغیر  کاجنسنگ
سردی شروع ہوتے ہی ادرک کی اہمیت بڑھی                                                                                                                                                                                                             
   کہتے ہیں ‘‘بندر کیا جانے ادرک کا سواد’’ اس لیے کہ ادرک کے اصل فوائد کا احساس صرف انسان ہی کو ہے ۔ پکوانوں کا ذائقہ بڑھانا ہو یا کھانا ہضم کرناہو تو ادرک استعمال کیا جا تا ہے ۔یہ ہر موسم میں دستیاب ہو تا ہے پیٹ خراب ہو جا ئے تو ادرک ،سرچکرا رہا ہو تو دوا ادرک۔ سردیوں میں ٹھنڈ سے بچنا ہو یا نزلہ زکام سے تو علاج ادرک۔ ماہرین تو جوڑوں کا درد بھگانے اور سوجن ختم کرنے میں بھی ادرک کو اکسیر مانتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ادرک قوتِ مدافعت بھی بڑھاتا ہے ۔ اس کی تھوڑی مقدار بھی زیادہ اثر رکھتی ہے ۔ یہ علاج کا علاج ہے ا ور اس کے سائیڈ افیکٹس بھی نہیں ہیں ۔
 (Zingiber )
حصہ استعمال: روٹ / جڑ
ادرک کے صحت کے فوائد
ادرک ینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات کا حامل ہے زندگی میں خستگی کوروکتا اور توسیع زندگی کو بہترصحت کے کئی فوائد رکھتا  ہے
 ادرک میں جنجیرل ہونےکی وجہ سے پلیٹلیٹ جمع ہونےمیں رکاوٹ پیدا کرتااور خون کا جمنا کلاٹ کو روکتا ہے.
ادرک خون کی گردش  کوبہتر  کرتاہے ادرک نچلے سیرم کولیسٹرال کی سطح کے لئے مدد گار ہے.
ادرک عمل انہضام نظام کے فنکشن کو بہتر بناتا ہے.
ادرک قدرت نے ادرک میں ایسی طاقت رکھی ہے کہ یہ معدے کی تیزابیت کم کرتا ہے۔ اس میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ اشتعالی مادے کے خلاف اچھی طرح سے لڑتا ہے اور تیزابیت سے نجات دلاتا ہے۔ کھانا پکانے کے دوران اس کا استعمال کریں اور بعد میں کاٹ کر کھانے پر چھڑک کر بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے
ادرک کی چائے قولون بڑی آنت کے درد کو زائل کرتی ہے. ادرک بڑی آنت کوصاف کرتی ہے.
ادرک تھَیلیوں یا موڑوں کو زائل کرتی ہے. ادرک عارضی طور اس ورم معدہ اور بد ہضمی کو زائل کرتی ہے
ادرک عارضی طور پر اپھارہ ، بادی ریاح کو زائل کرتی ہے ادرک عارضی طور پر ہے متلی کم کرتی ا ور گھٹاتی ہےاور قے کو روکتی ہے
ادرک سفر کی بیماری سے  روک  تھام اور اس سے نجات دینے میں دیگر ڈرگز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے.
ادرک جسم کی توانائی کی پیداوار کو تیز کرتی ہےاور پسینہ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے.
عضلات کی اذ يت اور اکڑن کو  زائل کرتی ہے. عصبی درد کو ادرک عارضی طور پر روکتی ہے
دانت درد میں تازہ ادرک  کی جڑ درد کو روکتی ہے. ادرک وارمنگ کے اثرات کامن سرد کی علامات کو زائل کرتی ہے
ایک تازہ کار محقق کی نئی تحقیق کے بقول:’’ پٹھوں کے درد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ادرک کا استعمال مفید ہوتا ہے‘‘۔ہم جانتے ہیں کہ صدیوں سے گھریلو قسم کی متنوع بیماریوں کے لیے ادرک کوبطور علاج استعمال کیا جاتا رہا ہے، جیسے کھانسی،زکام اور معدےکافساد،لیکن ’’ڈیلی میل ڈاٹ کو ڈاٹ یوکے‘‘ کے بموجب اب تحقیقِ جدید نے یہ بات واضح کردی ہے کہ ادرک خاص طور سے پٹھوں کے درد سے نجات حاصل کرنے کامفیدذریعہ ہے۔ یونیورسٹی آف جارجیہ کے پروفیسر پیٹرک اوکونور،جنہوں نے اِس ساری تحقیق کی قیادت کی ہے،پُراعتماد ہیں کہ یہ علاج ِکسی بھی درد کش دوائی سے بہتر ہوگی ۔’’ہراُس شے کاجوفی الواقع درد سے خلاصی عطاکرنے والی ہو،درد کاتجربہ کرنےوالوں کی جانب سےخیرمقدم کیا جائے گا
 متذکرہ تحقیق بتاتی ہےکہ ادرک کی خوراک ،ورزش کے سبب ہونے والے درد کو ۲۵ فی صد کم کرتی ہے۔یہ بات مسلم ہے کہ اِس میں پائے جانےوالے کیمیائی اجزأ میں وہ صلاحیت پائی جاتی ہےجواِسٹیریاڈی جلن مخالف دوائیوں کی صلاحیت سے مماثلت رکھتی ہے،جیسے کہ آئیبوبروفین اور ایسپرین
‘‘اُنہوں نے کہا"
”بندر کیا جانے ادرک کا سواد“ مقولہ بھلے ہی زیادہ پرانا نہ ہو لیکن ادرک کا استعمال اور اس کے طبی فوائد کا ذکر قدیم دور سے چلا آرہا ہے۔ اگر کسی کو ٹھنڈ کا اثر ہو گیا ہے تو کڑک ادرکی چائے سے اسے فوری آرام پہنچتا ہے۔اسی طرح سردیوں میں صبح کی ٹھنڈ میں ادرک، تلسی اور پودینے کے پتے ڈال کر پانی ابالیں پھر اس میں ایک چمچہ شہد ملا لیں اور اسے کاڑھا بنا کر پی لیں ۔ سردی کا اثر کافور ہو جائے گا۔علاوہ ازیںانڈین کھانوں میں ادرک ڈش کو مزید لذیذ بنانے کے لیے ڈالی جاتی ہے۔ادرک ٹھنڈ اور فلو کا قدرتی علاج ہے۔ باسی سڑی غذا کھا لینے کی وجہ سے فوڈ پوائزننگ(سوءہضم)کے علاوہ پیٹ کے اور بھی دیگر عارضوں میں ادرک کا استعمال بہت مفید ہے۔نظام ہاضمہ کی درستگی کے لیے بھی ادرک بہت مفید ہے اور موثر علاج ہے۔اس میں ایسے قدرتی اجزا ہیں جو درد کش ہیں۔یہ آدھے سر کے درد یعنی مرض شقیقہ میں بھی بڑی مفید ہے۔ اسے کھانے کے ساتھ ساتھ اس کا لیپ ماتھے پر ملنے سے درد دور ہوتا ہے۔
 ادرک    (Zingiber )
 ہیومیوپیتھک ریمڈی
تازہ ادرک کے غذائی اجزاء کی قدر100گرام
(ماخذ: یوایس دی اےَ قومی غذاییت ڈیٹا بیس)  
غذائی اجزاء    قدر تقریباً
پانی  78.89        گرام
توانائی  80         کیلوری     
پروٹین 1.82         گرام
کل لپڈ (چربی) 0.75 گرام
کاربوہائیڈریٹ  17.77 گرام
کل غذائی فائبر  2.0 گرام
کل شکر         1.70 گرام
منرلز
کیلشیم16              ملیگرام
آئرن           0.60 ملیگرام
میگ
نیشیم         43 ملیگرام
فاسفورس        34 ملیگرام
پوٹاشیم        415  ملیگرام
سوڈیم             13 ملیگرام
زنک 0.34             ملیگرام
وٹامنز
وٹامن سی  کل اسکوربیک ایسڈ 5.0 ملیگرام
تھامن         0.025   ملیگرام
ریبوفلون 0.034        ملیگرام
نیاسین0.750           ملیگرام
وٹامن بی6   0.160   ملیگرام
فولیٹ DFE  μ  11     گرام
وٹامن بی 12  μ   0.00 گرام
وٹامن اے رایبریلی μ  0 گرام
وٹامن اے   IU    0            
وٹامن ای (الفا-tocopherol) 0.26 ملیگرام
وٹامن ڈی      (D2 + D3  μ 0.0گرام
وٹامن ڈی                0 IU 
وٹامن K (phylloquinone) μ   0.1گرام
لپڈز
کل سیر فیٹی ایسڈ.041         .  0گرام
کل فیٹی ایسڈ مونوونساتوراٹڈ 0.154  گرام
کل فیٹی ایسڈ پولیونساتوراٹڈ 0.154  گرام
کولیسٹرال                                0 ملیگرام

https://www.facebook.com/pages/Homeopathynutritionherbs/138439162917723?