CLINICAL FORM PLEASE FILL

CLINICAL FORM PLEASE FILL
ہیپاٹائٹس مخصوص علاج: تازہ سفید مشروم 10 گرام روزانہ تین بار کھائیں 100گرام تازہ انگورکوآدھا لیٹر پانی میں ابال کرجب نصف پانی سے کم رہ جائے روزانہ اسکو تین دفعہ کر کے پیئں ہیپاٹائٹس میں غذائی ٹانک جڑی بوٹیاں 1جنسینگ2 ایلفالفا3 رئمیز اوفئکانا 4 اچاناکیا پرپوریا ہیپاٹائٹس سی کے مریض کے لۓ اکسیر ہو میو پیتھک اور غذا ئی علاج Carduus Marianus کآردووس مآریانوس Ceanothus کینوتوس Chenanthusچاننٹہوس Chelidonium چالادونیوم تازہ جڑی بوٹیاں اور سبزیاں گاجر؛ادرک کی جڑ؛لال پیاج؛لہسن؛دھنیا؛اجمود؛گوبھی (سرخ اور جامنی)؛ چقندر ؛پودینہ؛ایلو ویرا کا پانی پھل سیب؛اورینج ؛ لائم؛نیبو؛ مصالحہ جات لونگ؛ تلسی؛اجوائن؛ٹکسال

Thursday, August 2, 2012

ہيپاٹائٹس سی کيا ہے


 1ہيپاٹائٹس سی کيا ہے؟
ہيپاٹائٹس سی ايک جرثومہ ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے اور اس ميں سوزش کا باعث ہوتا ہے۔ جگر جسم ميں سب سے بڑا عضو ہوتا ہے اور بہت سارے ايسے اہم کام انجام ديتا ہے
جو اچھی صحت کے لئے ضروری ہوتے ہيں۔ يہ جسم کا انجن، صفائی پلانٹ (يہ خون سے زہروں کو خارج کرتا ہے) اور ذخيره گاه ہے۔
@کيا ہيپاٹائٹس سی سنگين ہوتا ہے؟
چونکہ ہيپاٹائٹس سی کا جرثومہ جگر کو خراب اور مناسب طريقے سے کام کرنے کی اس کی صلاحيت ميں مداخلت
کرتا ہے، لہذا تعديہ کے اثرات سنگين ثابت ہوسکتے ہيں۔ ہيپاٹائٹس سی سے متاثر ہوجانے والے تقريبا % 20 افراد کے جسم سے چند مہينوں کے اندر يہ جرثومہ قدرتی طور پر ختم ہوجائے گا۔
تاہم ہيپاٹائٹس سی ميں مبتلا زياده تر افراد متاثر افراد ميں سے تقريبا % 80  اپنی باقی پوری زندگی اس جرثومہ ميں مبتلا رہيں گے اسے 'مزمن تعديہ' کہا جاتا ہے۔
ہيپاٹائٹس سی کی 'مزمن تعديہ' ميں مبتلا افراد مختلف طريقوں سے اس جرثومہ سے متاثر ہوتے ہيں۔ کچھ افراد اپنی پوری زندگی بدستور صحت مند رہتے ہيں
اور انھيں کبھی بھی جگر کی کوئی سنگين پريشانی لاحق نہيں ہوتی ہے۔
ديگر افراد کو صرف معمولی يا متوسط خرابی جگر، جيسے سوزش يا ہلکی سی خراش کا سامنا ہوگا۔
تاہم تقريباً 3 ميں سے 1 فرد ميں 20 سال يا اس سے زياده عرصے ميں جگر کی سنگين خرابی صلابت جگر پيدا ہوگی۔
صلابت جگر کا مطلب يہ ہےکہ جگر تيزی سے پھيلنے والی سوجن کی زد ميں آگيا ہے اور مستقل طور پر خراب ہوگيا ہے۔
اس کے نتيجے ميں جگر کا کينسر ہوسکتا ہے يا جگر کام کرنا بند کرسکتا ہے۔
@ہيپاٹائٹس سی کی نشانياں اور علامات
ہيپاٹائٹس سی ميں مبتلا بہت سارے افراد کو پتہ ہی نہيں چلتا ہے کہ وه اس جرثومہ سے متاثر ہيں کيونکہ علامات ظاہر ہونے ميں سالوں يا يہاں تک کہ دہائياں لگ جاتی ہيں.
اس کی وجہ يہ ہے کہ جگر ميں عام طور پر اس وقت تک'شکايت پيدا نہيں ہوتی ہے'
جب تک کہ وه خرابی پہلے ہی سے بڑھ نہ گئی ہو۔
اگر اور ان کے ظاہر ہونے کی صورت ميں، ہيپاٹائٹس سی کی علامات ميں درج ذيل چيزيں شامل ہوسکتی ہيں:
 # چہرے کے رنگ پیلا ہونا
 # نیند میں خلل آنا
  # متلی اور قے
 # ہتھیلی کا گرم ہونا یا سرخ ہونا اور پسینے میں شرا ہونا
  # اسہال
  # بھوک کی کمی
  # وزن کم ہونا
  #يرقان
  # پیٹ میں پانی بھر جانا اور پھول جانا پاؤں اور تمام جسم میں سوجن خون کی قہ آنا
  سانس سے بدبو آنا
  # بے ہوشی طاری ہونا ہاتھوں پر کپکپی طاری ہونا 
@کس کو خطره لاحق ہوسکتا ہے؟
  پاکستان، مصر اوربنگلہ ديش میں ہيپاٹائٹس عام ہے.
ہيپاٹائٹس سی خصوصی طور پر متاثره خون، بشمول خون سے تيار ہونے والی مصنوعات جيسے سالم سرخ خليے
پلازما، پليٹليٹس، چکتہ بنانے والے عوامل کے رابطہ سے پھيلتا ہے۔
لوگ ہيپاٹائٹس سی سے پيدا ہونے والے خطرے کی زد ميں آسکتے ہيں اگر وه
منشيات کا انجکشن ليا ہے خواه صرف ايک بار ہو کسی مشترکہ نلکی يا کاغذ کے مڑے ہوئے رول وغيره سے منشيات سونگھا ہے
کسی ايسی شیٔ کا استعمال کيا ہے جو متاثره خون سے آلوده ہوسکتی ہے جيسے استرے، بالوں کی کلِپس، ٹوتھ برش يا ناخن تراش.
ايسے آلے سے ٹيٹو گدوايا ہے جس کی ٹھيک سے صفائی يا تطہير نہيں ہوئی تھی (روشنائياں اور سوئياں جرثومہ سے آلوده ہوسکتی ہيں جرثومہ کے پھيلاؤ کو روکنا.
ہيپاٹائٹس سی کا جرثومہ خون کے سب سے چھوٹے قطرے ميں بھی موجود ہوسکتا ہے، جو ننگی آنکھوں سے نظر نہيں آسکتا ہے۔
جسم سے خارج ہوجانے پر بھی يہ جرثومہ فوری طور پر مرتا نہيں ہے اور تين ماه تک زنده ره سکتا ہے ۔
ہيپاٹائٹس سی سے متاثر افراد کو اس بات سے آگاه رہنا ہوتا ہے کہ ان کے خون کا ايک معمولی سا قطره بھی کسی ديگر شخص کے جسم ميں داخل ہوجائے تو وه اس سے متاثر ہوسکتا ہے.
تاہم اہم بنيادی احتياطی تدابير سے يہ جرثومہ کسی اور کو لاحق ہونےکے خطرے کو کافی حد تک کم کرسکتا ہے احتياط سے صفائی کريں اور مشترکہ طور پر استعمال نہ کريں
متاثر فرد کے لئے ہيپاٹائٹس سی کے جرثومہ کو پھيلنے سے روکنے کے لئے انتہائی ضروری قدم يہ ہے کہ ان کے خون کے رابطہ ميں آنے والی کوئی بھی چيز احتياط کے ساتھ صاف کی جائے
يا پھينک دی جائے اور کبھی بھی اس کا مشترکہ طور پر استعمال نہ کيا جائے۔
اس ميں کاٹنے والی چيزيں (جيسے استره، ٹوتھ برش، بالوں کی کلِپس، ناخن تراش، يا قينچياں)، کوئی بھی ايسی چيز جس پر خون کا قطره ٹپکا ہو، يا جو خون جذب کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے
 (جيسے ٹشو، سوت اون)، اور جلد کے راستے سے جسم ميں داخل کی جانے والی کوئی بھی چيز (جيسے سوئياں) شامل ہيں۔
ہيپاٹائٹس سی سے متاثر افراد کوچاہئے کہ ايسے افراد کو متنبّہ کرنے کے بارے ميں غور کريں جنہيں ان کے خون کے رابطے ميں آنے کا خطره لاحق ہو۔
اکيوپنکچر لگانے والے ماہرين، بدن / کان چھيدنے والے، ٹيٹو بنانے والے، معالجين
دندان، اور طبّی مقاصد کے لئے خون لينے والا کوئی بھی شخص اس ميں شامل ہے۔
@منشيات کا استعمال
يہ ضروری ہے کہ سوئيوں يا ادويات کے ديگر لوازم کا مشترکہ طور پر استعمال يا انہيں دوباره استعمال نہ کيا جائے۔
ہيپاٹائٹس سی سے متاثر فرد کے ذريعہ پہلے استعمال شده سرنجوں کا دوباره استعمال آسانی سے تعديہ پھيلنے کا باعث ہوسکتا ہے۔ بہترين تدبير يہ ہے کہ غير قانونی منشيات کا استعمال کرنے سے قطعی پرہيز کيا جائے، کيونکہ ان سے ہيپاٹائٹس سی مزيد بگڑ سکتا ہے۔ کنڈوم استعمال کريں
ہيپاٹائٹس سی سے متاثر افراد کو ہميشہ کنڈوم استعمال کرنا چاہئے۔ جنسی عمل کے ذريعہ ہيپاٹائٹس سی پھيلنے کا خطره کافی کم ہے۔ البتّہ خون کی موجودگی کی صورت ميں اس کے منتقل ہوجانے
کا خطره بڑھ جاتا ہے، مثلاً اگر اس خاتون کے ايام چل رہے ہيں
سے HIV يہ خطره اس صورت ميں بھی بڑھ جاتا ہے جب کسی بھی جنسی ساتھی کو جينياتی گومڑ يا خراشيں ہوں يا وه
اور ہيپاٹائٹس سی ہے تو جنسی عمل کے ذريعہ دونوں ہی جراثيم کے منتقل ہونے کا HIV متاثر ہو۔ اگر کسی شخص کو خطره بڑھ جاتا ہے۔
@جانچيں اور علاج
جانچيں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص
ہيپاٹائٹس سی کے لئے کئی جانچيں ہيں۔ ہر جانچ سے اس بابت اہم معلومات حاصل ہوتی ہيں کہ جسم اس جرثومہ سے کس طرح نبرد آزما ہو رہا ہے اور اس سے ڈاکٹروں کو يہ سمجھنے ميں بھی مدد ملتی ہے کہ کس قسم کا علاج بہترين ہے۔
ٹيسٹ اور وائرل لوڈ (HCV – ہيپاٹائٹس سی کی تشخيص کے لئے استعمال ہونے والی جانچ کی دو اہم قسميں ضدّ جسم ّ
ضد ٹيسٹ ہيں۔
ہيپاٹائٹس سی کی تشخيص ہوجانے پر عمومی صحت کی جانچ کے لئے کئی ديگر جانچيں ہوتی ہيں۔ ان ميں جگر کے عمل کی
ٹيسٹ، خون کی مکمل پيمائش اور دموی پليٹليٹ کی تعداد، الفا فيٹوپروٹين ٹيسٹ اور (AFP) جانچيں، الفا فيٹوپروٹين, غدود کی فعّاليت کی جانچ کے ساتھ ساتھ خون کی جانچيں شامل ہيں نيز ديگر اقسام کی جانچ پڑتال
بشمول الٹرا ساؤنڈ، جگر شامل  کی حيوی تشخيص اور فائبرواسکين
جسم ميں جرثومہ کے اثرات پر نگاه رکھنے کے لئے ان ميں سے کچھ جانچوں کی ايک مقرره وقفے سے تکرار ہوگی۔ علاج سے قبل اور اس کے دوران بھی جانچيں ضروری ہيں تاکہ يہ پتہ لگايا جائے کہ علاج کارگر ثابت ہو رہا ہے اور يہ يقينی بنايا جائے کہ اس علاج سے کوئی سنگين ضمنی اثرات لاحق نہيں ہو رہے ہيں۔

·         ہیپاٹائٹس

سی کے مریض کے لۓ اکسیر ہو میو پیتھک اور غذا ئی علاج

Carduus Marianus

Ceanothus

Chenanthus

Chelidonium

تازہ جڑی بوٹیاں اور سبزیاں

گاجر؛ادرک کی جڑ؛لال پیاج؛لہسن؛دھنیا؛اجمود؛گوبھی (سرخ اور جامنی)؛ چقندر ؛پودینہ؛ کوال گندر کا پانی )ایلوویرا (

پھل

سیب؛اورینج ؛ لائم؛نیبو؛

مصالحہ جات

لونگ؛ تلسی؛اجوائن؛ٹکسال

 ہیومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید  بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی (نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان)رجسٹریشن نمبر 9027
تھراپیز٭غذااور غذائیت٭ ہیومیوپیتھی٭ ہربل میڈیسن٭ کلینیکل Meditation طبی مراقبے 
                                                              www.nutritionisthomeopath.blogspot.com      

No comments:

Post a Comment