Tuesday, October 31, 2023

قدرتی طور پر جانداروں

 





قدرتی طور پر جانداروں کے جسم خالق کائنات نے اس انداز میں ڈیزائن کیے ہیں کہ ان کے جسم کےقدرتی یعنی اندرونی ریسورسز اور قدرت کا عطا کردا روحانی وزڈم سے خوب با آور ہوتے ہیں ڈاکٹر ہانمن نے بھی واٸٹل فورس( روح) کی انسانی زندگی میں اہمیت کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ یہ وہ قوت ہے جو نظر نہیں آتی لیکن پورے جسم کوکنٹرول کرتی ہے۔جسم میں بیماری یا جھٹکا لگنے کے بعد بتدریج معمول پر آجاتے ہیں مگر ہم لوگ زہنی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور جلد بازی بے صبری میں علاج معالجہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں اس ہی وجہ سے ڈاکڑوں ;حکیموں ; ہومیوپیتھسز اور پیروں فقیروں کی موجیں لگی ہوٸیں ہیں اُدھر

پاکستان میں ہومیوپیتھک ادویات کے مدر ٹنکچر

اور ہومیوپیتھک کمبینیشن کی کوالٹی کنٹرول ؛ معیار آور انیلیسز کرنے کی کوئی لیبارٹری یا ادارہ نہیں اگر ہے تو پلیز بتائیں رہا پوٹنسیاں ؛ 200 سے 1 ایم ؛ 10 ایم ؛ 50 ایم ؛ سی ایم ؛ 10 ایم ایم کی دھڑا دھڑ هم ہومیوپیتھسز ہائی پوٹنسیاں کی بے دھڑک مریضوں پر فائرینگ کر رہے ہیں یہ تو لیبل پیتھی ہے ہومیوپیتھی تو نہ ہوئی کیونکہ ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ پوٹنسیاں چیک ہو سکتیں ہوں نہ ہی ہومیوپیتھ خود انکی شناخت کر سکتا ہو فارمیسیاں تو پوٹنسیاں کے نام پر الکحل کی سو گنا زائد قیمت بٹور رہیں ہیں ہومیوپیتھسز اور مریض انکے سامنے بیبس ہیں پورا یہ ایک مافیا ہےبہتر یہ ہے ان لیبل میڈیشنز اور پوٹنسیوں کی بجاٸے ھوالشافی کہہ کر مریضوں کا علاج پلاسیبو سے اگر نیت صاف اور خدمت خلق کےجذبے سے سرشار ہوں تو رَبِّ الْ عٰلَمِیْنَ آپ کے ہاتھ میں شفا دے گا آمین

فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ

Friday, October 13, 2023

بھنگ(کینابیس سیوٹیوا CANNABIS SATIVA)

بھنگ(کینابیس سیوٹیوا  CANNABIS  SATIVA)   ہومیوپیتھک ریمیڈی کا


کینابیس سیوٹیوا بھنگ ایک سالانہ جڑی بوٹیوں والا پھول دار پودا ہے جو مشرقی ایشیاء کا مقامی ہے

 اس کے استعمال کے ثبوت کے ساتھ پوری تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا ہے ، جس میں 10،000 سال قبل بھنگ سے تیار کردہ مواد کی دریافت بھی شامل ہے  بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بانگ انسان کی پہلی فصل کی گئی تھی۔

 لیکن اب بڑے پیمانے پر کاشت کی وجہ سے اسکا أفاقی   تاریخی  ریکارڈ ہے جسے صنعتی ریشہ  بیجوں کا تیل ، خوراک ، تفریح ​​، مذہبی ، روحانی اور نفسیاتی مزاج میں دوائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس کے استعمال کے مقصد کے مطابق پودوں کے ہر حصے کی الگ الگ استعمال کیا جاتا ہے اس کی قسم کو سب سے پہلے کارل لننیس نے 1753 میں درجہ بندی کی تھی۔ لفظ "سیوٹیوا" کا مطلب وہ چیزیں ہیں جو کاشت   کی جاتی ہیں۔

اگرچہ اس پودے کو کئی نام دیے جاتے ہیں (بھنگ، گانجا) لیکن راستافاری اسے 'مقدس جڑی بوٹی یا 'حکمت کی بوٹی' کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں اس کو نوش کرنے سے حکمت و دانائی حاصل ہوتی ہے۔

اس کو سگریٹ یا چلم پائپ کے ذریعے پیا جاتا ہے اور اس سے قبل خصوصی دعا کی جاتی ہے۔

راستفاریانزم (راسٹریفزم) ایک مذہبی تحریک ہے جس نے ایک افریائی - عیسائی ہم آہنگی فرقے کی شکل اختیار کی۔ بھنگ راستافاری فرقے کے ماننے والوں کے نزدیک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بائبل میں جسے 'زندگی کا درخت' کہا گیا ہے وہ بھنگ کا پودا ہے اور اس کا استعمال مقدس ہے۔ وہ اس بارے میں بائبل سے کئی حوالے پیش کرتے ہیں 

بھنگ کے سبز پتے چرس جبکہ خشک پتے حشیش بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں بھنگ کو بطور نشہ آور مشروب بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بنانے کا طریقہ کار دیسی سردائی کی طرح ہے۔

بعض علاقوں میں تو اسے بھنگ کی سردائی ہی کہا جاتا ہے۔ بھنگ کے طبی فوائد کے حوالے سے تحقیق طویل عرصے سے جاری ہے اور درد کش ادویات میں اس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

محققین نے کہا کہ بھنگ کے استعمال کا زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوتا ہے، جو نوجوانی میں اس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں مثال کے طور پر محققین کو معلوم ہوا کہ جو لوگ نوجوانی میں اس کا استعمال کرتے ہیں اور پھر مسلسل کئی سال تک جاری رکھتے ہیں ان کی ذہانت یا آئی کیو کے پوائنٹس میں اوسطاً آٹھ درجے کمی آئی اس کے بعد بھنگ کے استعمال کو محدود کرنے یا چھوڑنے کی صورت میں بھی ذہنی صلاحیت پوری طرح سے بحال نہ ہوئی۔

بھنگ کے استعمال کے فوائد مگر اعتدال پسندی سے

مرگی کے خطرات میں کمی

امریکا کی ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کی طرف سے 2013ء میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ بھنگ کا ست یا چرس کے استعمال سے مرگی اور بعض دیگر اعصابی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے ’سائنس آف فارماکولوجی اینڈ ایکسپیریمنٹل تھیراپیوٹکس میں چھپی تھی۔

اگرچہ کینابیس سیوٹیوا بھنگ کا بنیادی نفسیاتی عنصر ٹیٹراہائڈروکاناابینول (ٹی ایچ سی) ہے  لیکن اس پلانٹ میں 500 سے زیادہ مرکبات ہیں  ان میں کم از کم 113 بھنگ ہے۔  تاہم  ان میں سے اکثر "معمولی" کینابینوئڈس صرف ٹریس کی مقدار میں تیار ہوتے ہیں۔ []]  ٹی ایچ سی کے علاوہ  کچھ پودوں کے ذریعہ اعلی گھنا پن میں پیدا ہونے والا ایک اور کینابینوائڈ کینابائڈیول (سی بی ڈی) ہے جو نفسیاتی نہیں ہے لیکن اعصابی نظام میں ٹی ایچ سی کے اثر کو روکنے کے لئے حال ہی میں دکھایا گیا ہے۔   کینابیس اقسام کی کیمیائی ساخت میں فرق انسانوں میں مختلف اثرات پیدا کرسکتا ہے۔  مصنوعی ٹی ایچ سی جسے ڈرونابینول کہتے ہیں  اس میں کینابیدیول (سی بی ڈی)  کینابینول (سی بی این)  یا دیگر کینابینوائڈز نہیں ہوتے ہیں  یہی وجہ ہے کہ اس کے دواؤں کے اثرات قدرتی بھنگ سے نمایاں طور پر مختلف ہوسکتے ہیں۔


بھنگ(کینابیس سیوٹیوا  CANNABIS  SATIVA)   ہومیوپیتھک ریمیڈی کا فائٹوکیمیکل تجزیہ اور نیوٹریشن رپورٹس

نباتاتی اور حیواناتی سورس کی ہومیو پیتھک سینگل میڈیشن میں قدرتی بہت سارے اجزاء ہوتے ہیں یہ ایک قدرتی کمبینیشن ہوتا ہے اس میں اپنی طرف سے کیمیا گری کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دوسری ادویات کے ساتھ کمبینیشن بنایا جاٸے تو ہر دوا اپنی شفاٸی افادیت کھو دیتی ہے اور نیا کمبینیشن نقصان دے بھی ہوسکتا ہے  

فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ


### کینابیس سیوٹیوا  بھنگ کےکیمیائی اجزاء100 گرام خشک کینابیس سیوٹیوا (بھنگ) کے کیمیائی اور غذائی اجزاء کی درست اور منظم تفصیل دی جا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار معتبر فائیٹو کیمیکل اور نیوٹریشنل ریسرچ ڈیٹا پر مبنی ہیں (اوسط سائنسی اقدار کے مطابق):

🌿 کینابیس سیوٹیوا (Cannabis sativa) – 100 گرام خشک بیج
1. کیمیائی اجزاء (Chemical Constituents)
کینابینوائڈز (Cannabinoids):
جزو اوسط مقدار فی 100 گرام
Δ9-ٹیٹراہائڈروکینابینول (THC) 0.3–1.0 گرام (0.3–1%)
کینابیڈیول (CBD) 0.1–0.5 گرام (0.1–0.5%)
کینابیجرول (CBG) 0.05–0.1 گرام
کینابینوئل (CBN) 0.02 گرام سے کم
کینابی کرومین (CBC) 0.05–0.1 گرام
🌸 2. مہک دار مرکبات (Aromatic Compounds – Terpenes & Sesquiterpenes)
بھنگ کی مہک تقریباً 120 اتار چڑھاؤ والے مرکبات پر مشتمل ہے، جن میں درج ذیل نمایاں ہیں:
مرکب اوسط فیصدی مقدار خصوصیت
α-Pinene 0.12–0.25% تازہ پائن کی خوشبو
Myrcene 0.2–0.5% زمینی اور مسالہ دار خوشبو
Linalool 0.05–0.12% لیوینڈر جیسی مہک
Limonene 0.1–0.2% ترش پھلوں جیسی خوشبو
trans-β-Ocimene 0.05% میٹھی، پھولوں جیسی مہک
α-Terpinolene 0.08–0.15% جڑی بوٹیوں جیسی خوشبو
trans-Caryophyllene 0.2–0.4% مرچ دار لکڑی کی مہک
α-Humulene 0.1–0.2% ہلکی جڑی بوٹی جیسی مہک، سیوٹیوا کی خاص خوشبو میں اہم کردار ادا کرتا ہے
Caryophyllene oxide 0.05% یہی مرکب تربیت یافتہ کتوں کو بھنگ کی بو سونگھنے میں مدد دیتا ہے
3. دیگر فائیٹو کیمیکل اجزاء (Other Phytochemicals)
فلاوونائڈز (Flavonoids): تقریباً 0.2–0.5%
کلوروفل: 0.3%
ضروری تیل (Essential oils): 0.1–0.3%
لیگننز، فینولک ایسڈز، ٹیننز: 0.5–1% مجموعی
🍽️ 4. غذائی اجزاء (Nutritional Composition – 100g dry hemp seed)
جزو مقدار
حرارے (Calories) 487 kcal
پانی 0%
پروٹین 31.4 g
چربی (Fat) 29.6 g
کاربوہائیڈریٹ 31.9 g
فائبر 23.5 g
راکھ (Ash) 7.1 g
⚙️ 5. معدنیات (Minerals)
معدنیات مقدار فی 100g
کیلشیم (Ca) 139 mg
فاسفورس (P) 1123 mg
آئرن (Fe) 13.9 mg
میگنیشیم (Mg) 483 mg
سوڈیم (Na) 12 mg
پوٹاشیم (K) 900 mg
زنک (Zn) 7.7 mg
مینگنیز (Mn) 2.3 mg
💊 6. وٹامنز (Vitamins)
وٹامن مقدار فی 100g
وٹامن A 518 µg
تھامین (B1) 0.37 mg
ربوفلاوِن (B2) 0.20 mg
نیاسین (B3) 2.43 mg
وٹامن B6 0.12 mg
وٹامن C 0 mg
وٹامن E 0.80 mg
🌿 7. اضافی نوٹ

بھنگ کی پتیاں فائبر، کلوروفل، فلاوونائڈز اور معدنیات (کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس) کا اہم ذریعہ ہیں۔

بغیر نشہ آور اقسام (Industrial hemp) میں THC کی مقدار 0.3% سے کم ہوتی ہے۔

کینابیس سیوٹیوا کی مہک بنیادی طور پر ٹرپینز اور سیسکیوٹرپینز کے امتزاج سے بنتی ہے، جو ہر strain کو منفرد خوشبو اور اثر دیتے ہیں۔

---

ہے

ہیومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی  رجسٹریشن نمبر 9027 (نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان) ...

www.nutritionisthomeopath.blogspot.com





Thursday, July 6, 2023

بیگن

 

Contact at 
Fatehyab.ali@gmail.com

سولنم میلونگینا یعنی(بینگن🍆) کی بھی ایک طویل تاریخی کہانی ہے 

قدیم زمانے سے عام انسانی بیماریاں کے علاج. 

سولنم میلونگینا (بینگن🍆)   سےعام طور پرعلاج  کیا  جاتا ہےجبکہ بینگن نباتاتی طور پر ایک پھل ہے اسے عام طور پر کھانے پکانے اور روزمرہ کی زبان میں سبزی  کہا جاتا ہےلہذا اس کو ادویات کی جڑی بوٹیوں کا ایک ممکن ذریعہ سمجھا جاتا ہے مزید تحقیق کرنے سے معلوم ہوا

بیگن کو "سبزیوں کا بادشاہ" کا لقب دیا گیا تھا کیونکہ اس کے شاندار چمکدار بھرپور اور جامنی رنگ کے ساتھ ساتھ اس کے گوشتدار انتہائی غذائیت سے بھرپور سفید گوشت تھا یہ سبزی پوری دنیا میں کھانے کے قابل ہے

🍆  solanum melongena  

سولنم میلونگینا  ہومیوپتھک ریمیڈی  

کی فائٹوکیمیکل اور نیوٹریشن ر پورٹس

نباتاتی اور حیواناتی سورس کی ہومیو پیتھک سینگل میڈیشن میں قدرتی بہت سارے اجزاء ہوتے ہیں یہ ایک قدرتی کمبینیشن ہوتا ہے اس میں اپنی طرف سے کیمیا گری کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دوسری ادویات کے ساتھ کمبینیشن بنایا جاٸے تو ہر دوا اپنی شفاٸی افادیت کھو دیتی ہے اور نیا کمبینیشن نقصان دے بھی ہوسکتا ہے۔لہذا اسے ادویات کی جڑی بوٹیوں اور سبزوں کا ایک ممکن ذریعہ سمجھا جاتا ہے مزید تحقیق    کرنے سے معلوم ہوا بیگن میں بہت سے بائیو کیمیکل اور نوٹرینت پائیے جاتے ہیں  ہر  ایک بہت پیچیدہ ساختی مرکب رکھتا ہے  

 اینتھوسیانز

   پانی میں گھل کر پودوں کے روغن بناتے ہیں جو نیلے، سرخ، جامنی اور سیاہ رنگوں کو  پیدا کرتے ہیں ۔  

ان کا تعلق روغنی مالیکیولزفلاوونائڈز سے ہے

اینتھوسیانز بیگن اینتھوسیانز سے بھرپور ہوتے ہیں جو ان کے جامنی رنگ کو پیدا کرتے ہیں۔  یہ مرکبات اینٹی آکسیڈینٹ کے طور پر کام  ہیں خلیات کو آکسیڈ یٹیو نقصان سے بچاتے ہیں اور دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔

 *کلوروجینک ایسڈ: اس فینولک مرکب میں اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات ہیں جوکہ بیگن میں مجموعی صحت کے فوائد میں معاون ہیں۔ 

* نسونین :  ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو بیگن کی جلد میں پایا جاتا ہے  یہ سیل کی جھلیوں کو آزاد ریڈیکلز کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد کرتا ہے

 * فلاوونائڈز بیگن میں مختلف فلاوونائڈزہوتے ہیں، جیسےقورکتیں اور  رتین جو ان کے اینٹی آکسیڈینٹ اور سوزش کے اثرات میں اثر ڈالتے ہیں۔ 

* ٹیرپینز: بیگن میں پائے جانے والے کچھ ٹیرپینز کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سوزش کو کم کرنے کی خصوصیات ہوتی ہیں اور یہ قلبی صحت کی مدد کر تے ہیں

* ہیںسپونن مرکبات کا ان کے ممکنہ انسداد کینسر اور کولیسٹرول کو کم کرنے والی خصوصیات کے لیے ریسرچ کی جا رہی ہے

# بیگن کی غذائی اجزاء # (فی 100 گرام خام میں): کیلوریز: 25 کلو کیلوری کاربوہائیڈریٹ: 5.88 گرام غذائی ریشہ: 3 جی پروٹین: 0.98 گرام کل چکنائی: 0.18 گرام وٹامن سی: 2.2 ملی گرام وٹامن کے: 3.5μg وٹامن بی 6: 0.08 گرام وٹامن بی 6: 0.08 گرام پوٹاشیم۔  : 229mg مینگنیج: 0.23mg میگنیشیم: 14mg فاسفورس: 24mg کیلشیم: 9mg آئرن: 0.23mg 

# بینگن کے صحت کے فوائد # دل کی صحت بینگن میں موجود فائبر، پوٹاشیم، وٹامن B6، اور فائٹو کیمیکلز بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں کولیسٹرول کی سطح کو کم کریں اور مجموعی طور پر قلبی فعل کو بہتر بناتے ہیں۔  

# وزن میں کمی # بیگن میں کیلوریز کی مقدار کم اور فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ وزن کم کرنے والی غذا میں ایک بہترین اضافہ ہے کیونکہ یہ آپ کو مکمل اور مطمئن محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے

# اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات # بیگن میں موجود اینتھوسیاننز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں نقصان دہ فری ریڈیکلز کو بے اثر کرنے میں مدد کرتے ہیں جس سے آکسیڈیٹیو تناؤ اور دائمی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

# بلڈ شوگر کنٹرول # کچھ مطالے سے پتہ چلتا ہے کہ بیگن میں موجود کچھ مرکبات خون میں شوگر کی سطح پر مثبت اثر ڈالتے ہیں جو ذیابیطس کے شکار افراد یا ذیابیطس کے خطرے سے دوچار افراد کے لیے ممکنہ طور پر فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں 

# ہاضمہ کی صحت # بیگن میں موجود فائبر کا مواد آنتوں کی با قاعده حرکت کو فروغ دے کر ہاضمے کی صحت کو سہارا دیتا ہے اور آنتوں کی مجموعی صحت میں مدد کرتا ہے  

#  ادرا کی  فنکشن # بینگن میں اینٹی آکسیڈنٹس خاص طور پر اینتھوسیاننز کی موجودگی دماغی صحت اور ادرا کی افعال میں مدد کر تی ہے 

جلد کی صحت # بیگن میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور اینٹی سوزش خصوصیات جلد کو صحت مند رکھنے اور بڑھاپے کی علامات کو کم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو تیں ہیں  یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ جہاں بیگن کے متعدد ممکنہ صحت کے فوائد ہیں ایک متوازن غذا جس میں مختلف قسم کے پھل، سبزیاں اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں شامل ہیں مجموعی صحت اور تندرستی کے لیے بہت ضروری ہے  مزید برآں کھانا پکانے کے طریقے غذائی اجزاء کو متاثر کر سکتے ہیں لہٰذا زیادہ سے زیادہ غذائی اجزاء کو برقرار رکھنے کے لیے کھانا پکانے کے صحت مند طریقے جیسے گرل بیکنگ یا بھاپ استعمال کرنے پرغورکریں بیگن کے 

اثرات بد انفرادی عوامل جیسے مجموعی خوراک کھانا پکانے کے طریقے اور ذاتی صحت کے حالات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں مزید برآں کچھ لوگوں کو بیگن سے الرجی ہو سکتی ہے یا سبزی میں پائے جانے والے کچھ مرکبات کے لیے حساسیت ہو سکتی ہے

اگر آپ کو صحت سے متعلق مخصوص خدشات یا غذائی تحفظات ہیں تو یہ ہمیشہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور یا کوالیفائڈ غذائی ماہر سے مشورہ کریں جو آپ کے منفرد حالات کی بنیاد پر ذاتی رہنمائی فراہم کر سکے گا

ماخذ: اس لسٹنگ کے لئے غذائی اجزاء کا ڈیٹا یو ایس ڈی اے ایس آر  کے ذریعہ فراہم کیا گیا ہے  

ہیومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی  رجسٹریشن نمبر 9027 (نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان) ...

www.nutritionisthomeopath.blogspot.com



Wednesday, October 6, 2021

ایپس میلیفیکا

 ایپس میلیفیکا


شہد کی مکھیوں کی ایک اور خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ دوسرے کیڑے مکوڑوں ; جانوروں  اور انسانوں کی طرح کبھی بھی آپس میں لڑتی نہیں ہیں بلکہ آپس میں محبت اور منظم طریقے سے رہتی ہیں

شہد کی مکھی کا وجود اندازاً 10کروڑسال سے پایا جاتاہے۔ ان میں کام کرنے کے لحاظ سے مکھیوں کی درجہ بندی ہوتی ہے۔چھتے میں تین طرح کی مکھیاں iہوتی ہیں۔ ملکہ مکھی (Queen Bee) ۔ نکھٹومکھی (Drone Bee)اور کارکن مکھی (Worker Bee) ۔ مکھیوں کا چھتا چھ کونوں والے خانوں پر مشتمل ہوتاہے،جن کی دیواریں موم سے بنتی ہیں

1835 میں تھورین جیا کے ایک پادری ریو برونس  نے مشہور ہومیوپیتھک پیپر  میں  شہد کی مکھی   ایپس میلیفیکا  کے خالص زہر سے علاج کرنے کا پبلشر کیا  1850  میں شہد کی مکھیوں کے خشک پوڈر سے ای ای مارکی نے  اپنی تھیوری اور پریکٹس میں متعارف کرایا جنوری  1852 میں  نیویارک سینٹرل ہومیوپیتھک سوسائٹی کی طرف سے ایک پرچہ ملا جس میں حقیقی ثبوت شامل تھے۔  

1858 میں ڈاکٹر سی ڈبلیو ولف نے مکھی  ایپس میلیفیکا  پر ایک کتاب شائع کی  لیکن اس نے پوری مکھی کا ٹکنچر بھی استعمال کیا اس  نے شہد کی مکھی  ایپس میلیفیکا کے ٹکنچر سےہومیوپیتھک کے طور پر گھریلو جانوروں کا علاج مکھی  ایپس میلیفیکا کے ٹکنچر سے کرنے  کی کوشش  اور گھوڑے بھیڑ  دیگر مویشی!  مشہور ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز کی طرف سے تجربے اور رپورٹوں کے ذریعہ  ایپس میلیفیکا  سےعلاج کی تاثیر کو "ثابت" ہونے  تقریبا سن 1900 پوری ایپس میلیفیکا مکھی کے زہر اور ٹکنچر دونوں کو  مرکزی نیویارک اسٹیٹ ہومیوپیتھک سوسائٹی کی طرف سے ایک علاج کے طور پر تسلیم کیا

کچھ مغربی ممالک میں شہد کی مکھی کے ڈنگ سے جوڑوں کے درد اور سوجن کو دور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد کا استعمال خون کی کمی، دمہ، گنجا پن، تھکاوٹ، سردرد، ہائی بلڈپریشر، کیڑے کا کاٹا، نیند کی کمی، ذہنی دباﺅ اور ٹی بی جیسے امراض میں بھی فائدہ مند ہے۔

وان فریش وہ شخص تھا کہ جس کو 1973ء میں شہد کی مکھیوں کے متعلق تحقیق کرنے پر نوبل پرائز دیا گیا تھا

 شہد کی مکھی ( ایپس میلیفیکا  Apis Mellifica)

ہومیوپیتھک ریمیڈی کی کیمیکلز اور نیوٹریشن

 رپورٹس

نباتاتی اور حیواناتی سورس کی ہومیو پیتھک سینگل میڈیشن میں قدرتی بہت سارے اجزاء ہوتے ہیں یہ ایک قدرتی کمبینیشن ہوتا ہے اس میں اپنی طرف سے کیمیا گری کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دوسری ادویات کے ساتھ کمبینیشن بنایا جاٸے تو ہر دوا اپنی شفاٸی افادیت کھو دیتی ہے اور نیا کمبینیشن نقصان دے بھی ہوسکتا ہے  

#فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ

 * اپیس میلیفیکا  کے کیمیائی اجزاء 

 01. ملیٹٹن

 02.  ہائلورو نیڈیز

 03. فاسفیٹیس -گلوکوسیڈیس۔

 04. فاسفولیپیس

 05. فاسفولیپیس بی۔

 06. اپامین۔

 07. اڈولپائن۔

 08. سیکاپائن۔

 09. منی مائن۔

 10.    گلیکو سائیڈس ٹیرٹیاپن۔

 11.  ڈگرینولیٹنگ پیپٹائڈ۔

 12۔ پامین۔

 13. پروکامین اے۔

 14. پروٹیز روکنے والا۔

 15. نورادرینالین۔

 16۔ ہسٹامائن۔

 17. ڈوپامائن۔

 18. امینوبیوٹرک ایسڈ

 19- امینو ایسڈ

 20۔ گلوکوز۔

 21. فروکٹوز۔

 22. کمپلیکس ایتھرز۔

* اپیس میلیفیکا  میں امینو ایسڈز

 ویلین *

 لیوسین *

 لائسن *

 ٹائروسین **

 تھرونین *

 فینی لیلینین *

 ہسٹڈائن *

 میتھیونین *

 ارجنائن ***

 ایسپارٹک ایسڈ۔

 گلوٹامک ایسڈ۔

  سیرین

 گلائسین۔

 الانائن۔

 سیسٹین

 پرولین۔

* اپیس میلیفیکا  میں  فیٹی ایسڈز

 لاؤک ایسڈ 

میتھری ایسڈ

 پامیٹک ایسڈ

 سٹاریک ایسڈ

 آرکیڈک ایسڈ

 بہنیک ایسڈ 

لینکسکک ایسڈ

   پالمولوک ایسڈ

 ایلڈیکڈ ایسڈ 

اولیک ایسڈ۔

 اینڈسیک ایسڈ 

لیڈولک ایسڈ

 ڈیکوسینوک ایسڈڈ

*اپیس میلیفیکا  میں  معدنی اجزاء

 کیلشیم۔

 میگنیشیم

 سوڈیم۔

 پوٹاشیم۔

 فاسفورس

 لوہا۔

 تانبا۔

 مینگنیج

ماخذ: اس لسٹنگ کا  دیٹا مختلف ویب ساٸٹ سے لیا گیا ہے

ہومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی  رجسٹریشن نمبر 9027 (نیشنل کونسل فار

 ہومیوپیتھی حکومت پاکستان) ...

fatehyab. ali@gmail.com


Wednesday, December 9, 2020

جواب



 میرے بھاٸی نے کہا ہانیمن کے زمانے میں انسان نیچرل زندگی پہ تھے انسان تو میرے بھاٸی اس وقت نیچرل زندگی پہ تھے جب وہ غار میں رہتے تھےاور ان کے پاس نہ لنگوتا نہ سوتھا تھا

دوسری بات میرے بھاٸی نے کی انسان نیچر سے دور ہے تو کیا آج کی عورت  بچے کو اس جگہ سے نہیں جنم دیتی ہے إ جہاں سے غار کی عورت جنم دیتی تھی کیا آج بھی بچے کی پیداٸش کا وہ ہی نیچر طریقہ نہیں ہے آج بھی انسان کی اناٹمی اور فزیالوجی وہ ہی نہیں ہے  کیا واٸٹل فورس بھی وہ  نہیں رہی جو غار کے انسان کی تھی  نوٹ کر لیں میرے بھاٸی ہومیوپیتھی کی بنیاد  واٸٹل فورس پر ہے اور ہومیوپیھ واٸٹل فورس کا علاج کرتا ہے علاج میں جسم کے اپنے دفاع کو مضبوط بنانا اور ان توازن کو بحال کرنا شامل ہے

 آپ نے کہا ”ہر کیس سنگل ریمیڈی سے حل نہیں ہوتا“  میرے بھاٸی سنگل ریمیڈی باذات خود  بھر پور قدرتی  اجزاء  سے مالا مال ہے اس میں کٸی فائیٹو کیمیکلز ; منرلز; وٹامنز; کاربوہائیڈریٹ ; پروٹین اور امینو ایسڈز اور دیگر کا کمپلیکس کمبینیشن ہے اگر(سورس نباتاتی یا حیواناتی ہوں)

سینگل میڈیشن میں قدرتی بہت سارے اجزاء ہوتے ہیں یہ ایک قدرتی کمبینیشن ہوتا ہے اس میں اپنی طرف سے کیمیا گری کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دوسری ادویات کے ساتھ کمبینیشن بنایا جاٸے تو ہر دوا اپنی شفاٸی افادیت کھو دیتی ہے اور نیا کمبینیشن نقصان دے بھی ہوسکتا ہے

ہرسنگل ریمیڈی کی ہومیوپیتھ نے انفرادی طور پر پروونگ کی اور پھر مختلف ہومیوپیتھس نے اس

دوا کی پروونگ کا تمام ریکارڈ بنائی جانے والی دوا کن کن مریضوں پر استعمال کروائی گئی اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے ان کا تمام ریکارڈ 

 ریمیڈی کے کلینیکل رزلت  اور پروف دوا کن کن مریضوں پر استعمال کروائی گئی کرنے کے بعد اس کو ہومیوپیتھک فارماکوپیا  میں  میں شامل کیا  جبکہ ہومیوپیتھک کمبینیشن کی  کوٸی پروونگ نہیں ہوٸی بلکہ یہ ایڈورٹاٸیزنگ کے  زور پر مریضون کی لوٹ مار کر رہے ہیں 

جاندارون میں قدرت نے ایسے سسٹم اور جین رکھے ہیں جو انسانی جسم کو سردی گرمی  اور موسمی تغیرات ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھتے ہیں

انسانی جسم کا اپنا سرواول میکنیزم اور وزیڈم ہے جب ہم کچھ کھاتے ہیں تو  سونگھنے کی حس فوراًچیک کرتی ہے  اگر دماغ  پسند نہ  کرے ہاتھ روک جاتا ہےاگر کھانا منہ میں ڈالتے  ہیں تو ذائقہ کی حس چیک کرتی ہےذائقہ ٹھیک نہ ہو فوراً تھوک دیتے یا اگل دیتے ہیں اگر ان حسوں  سے غذا پاس ہو جاۓ تو  کھانا معدے میں پہنچ جاتا ہے معدے میں  اپنے  سنسرز ہوتے ہیں  اگرغذا ضرر رسان ہو تو معدے کا ریفلکس ایکشن ہوتا ہے التیاں کی شکل  میں تمام کھایا پیا باہر آجاتا ہے اگر پھر بھی بچی کچی زہریلی  غذا کچھ آنتوں  تک پہنچ جاتی ہے تو آنتوں  کے سنسرز  زہریلی  غذا کے زہر کو بلاک کرنے کے لئے پانی کی طرح اسہال لگا دیتے ہیں یعنی دست  لگ جاتے جسم کا سرواول  وزیڈم  اور دماغ معدے اورآنتوں کواچھی طرح واش کردیتے ہیں اگر پھر بھی کچھ زہریلا پن آنتوں  سے نکل کر جسم کے خون میں  شامل ہوجاتا ہے تو جسم کا دفاعی  وزیڈم ہی تو ہے جو اس ٹاکسن کو خون سے نکال کر دھپڑون کی  شکل میں باہر جلد پر پھنک کر ٹاکسن کو لوکلایز کر دیتا ہے اور جسم  کےواٸٹل اورگن خاص کر دماغ کے خلیات کو محفوظ رہتے ہیں

 ہر خلیہ کی محافظ واٸٹل فورس ہی تو ہے اور واٸٹل فورس کا علاج سنگل ریمیڈی کی پوٹینسی سے ہوتا ہے کمبینیشن سے نہیں

رہا ایلوپیتھک کا ایلوپیتھک دنیا  کے ممالک کا آفیشلز علاج ہے اس کی افادیت اپنی جگہ ہے ہومیوپیتھی 

الٹرنیٹو اینڈ کمپلیمنٹری میڈیسن ہیں ان کا ایلوپیتھی سے کوٸی مقابلہ نہیں ہومیوپیتھی دنیا میں سنگل ریمیڈی کے نام سے جانی جاتی ہے اسی لٸے دنیا بھر میں پاپولر ہے شکریہ

فتحیاب علی سید  ہومیوپیتھ


Thursday, November 19, 2020

#عارضی شفاء اور داٸمی شفاء


   #عارضی شفاء اور داٸمی شفاء
علاج و معالجہ کے معمولات  میں اگر کسی مریض  کے جسم میں کسی وٹامن کی کمی ہے تو اس کو فارماسیوٹیکل وٹامن دے کر اس کے جسم کی  وٹامن کی کمی دور کر دی جاتی ہے اور مریض کو عارضی آفاقہ ہو جاتا ہے اگر مریض کے جسم میں کسی منرل کی کمی ہو تو فارماسیوٹیکل منرل دے کر  اس کے جسم کی اس منرل کی کمی کو پورا کر دیا جاتا ہے اور مریض کو عارضی آفاقہ ہو جاتا ہے اگر کوٸی مریض کسی  مرض میں مبتلا ہو تو اس کو مناسب ہربل دے کر عارضی طور پر صحت بحال کر دی جاتی ہے اگر مریض کو کہیں درد ہے تو پین کیلر دے کر تکلیف کے احساس کو  دور کر دیا جاتا ہے اور  مریض کو عارضی ریلیف مل جاتی ہے اسی طرح اگر مریض کو انفکشن ہو تو مریض کو اینٹی بایٹک دے کر انفکشن کو عارضی طور پر  دبا دیا جاتا ہے اگر مریض کے جسم میں گلٹی(  ٹیومر) ہو تو اپریشن سے ٹیومر نکال دی جاتی ‫ اورمریض کو عارضی ریلیف مل جاتی ہے
 یہ معمولات جسم جن کا علاج مادی ادویات  سے مادی جسم کا کیاجاتا ہے یہ مادی بیرونی امدادی عارضی علاج ہے اس کے جسم پر مُضِر اَثَرات  پرتے ہیں کیوں کہ ہر خلیہ کی اندرونی حیات  اور جسم کے میکنیزم  پر قدرتی طور پر قوت حیات یعنی واٸٹل فورس پوری طرح حاوی ہے لیکں جب واٸٹل فورس کمزور ہوتی ہے تو جسم بیماریوں کی نذر ہوجاتا ہے 
#ہومیوپیتھی کی بنیاد  واٸٹل فورس پر مبنی ہے جو جسمانی اور ذہنی اندرونی طریقہ کار کی مکمل طور پر خود مختار ہے جسمانی اور ذہنی طاقت کے بچاؤ کے لئے اپنے جسمانی دفاعی ریسورسز کو  فعال کرتی ہے جو ذیل پر مشتمل ہیں:
1 عصبی نظام: 2 لیمفاٹک نظام: 3 انڈروکرین سسٹم
4 مدافعتی سسٹم : 5 سیل کا واٸٹل نظام
 مدافعتی نظام دفاعی اور بچانے  والوں کا حصہ ہے
  دماغ کے کنٹرول میں حکمت عملی۔ روحانی حکمت
 آف باڈی اینڈ مائنڈ ورک کرتا  ہے اور
#ہومیوپیتھی ایک طبی سسٹم ہے جو اس یقین پر مبنی ہے کہ جسم خود ہی علاج کرسکتا ہے جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں وہ قدرتی مادے جیسے پودے اور معدنیات کی پوٹنسیوں میں مقدار استعمال کرتے ہیں  ہومیوپیتھک فلاسفی ہے یہ شفا یابی کے عمل کو متحرک کرتے ہیں۔
#ہومیوپیتھی میں اکیلی دوا کی کم سے کم مقدار  کو خاص طریقہ سے  ڈائنامائزیشن کرکے جب پوٹینسی بناٸی جاتی ہے اس میں بھر پور قوت شفاء ہوتی ہے " ھو الشافی ھو الکافی“کہنا لازم ہے
اکیلی دوا کی ہاٸی پوٹنسی غیر مرٸی قوت میں ہوتی ہے اُدھر اکیلے جسم میں روح( قوت حیات) بھی اکیلی  غیر مرٸی قوت یعنی واٸٹل فورس ہے ساٸنس اتنے عروج پر ہونے  کے باوجود واٸٹل فورس کی حقیقت تک نہیں پونہچ سکی اسی طرح ساٸنس ڈان ہومیوپیتھی کی ہاٸی پوٹنسی کی غیر مرٸی قوت کی گہری پُر اسرار یت پر ڈاما ڈول ہیں 
ڈاکٹر ہانمن روح کی انسانی زندگی میں اہمیت کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ یہ وہ قوت ہے جو نظر نہیں آتی لیکن پورے جسم کوکنٹرول کرتی ہے تمام افعال اسی کے مرہونِ منت ہیں ڈاکٹر ہانمن نے اس کو قوتِ حیات کا نام دیا ہے اورکہا کہ جب یہ قوت حیات کمزور پڑتی ہے تو پھر جسم بیمار پڑجاتاہے اوراس کو بیمار یا کمزور کرنے میں ذہنی دباؤ، پریشانی،  غلط سوچ ،فکر ،قناعت نہ کرنا، ہوس، دیرسے سونا، دیرسے اٹھنا یاقدرتی غذاکا استعمال نہ کرنا،طہارت وصفائی بڑا اہم کرداراداکرتے ہیں۔
#ڈاکٹر ہانمن ’آرگنن آف میڈیسن‘ میں لکھتے ہیں کہ ہوپیتھک علاج میں بالمثل دوا کی قلیل مقدار ’’جلد‘‘ اور ’’مستقل‘‘ طور پر مریض کو اس بیماری سے شفایاب کر دیتی ہے۔
#ہومیوپیتھی کا فلسفہ علاج دوسرے طریقہ علاج سے مختلف ہے  یہ مریض کے جسمانی اعضاء کا علاج ہی نہیں کرتی بلکہ یہ جسم انسانی کی مرکزی قوت حیات کو اپنی ادویات سے متحرک کرتی ہیں دوا قلیل مقدار میں ہونے کے باوجود ان خرابیوں کو دور کرتی ہے ہومیو پیتھک ادویات چونکہ نفسیاتی اورجسمانی دونوں قسم کے اثرات رکھتی ہیں اس لئے مریض کی مکمل ذہنی اور جسمانی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے علاج کیا جاتا ہے ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج بھی علامات کی روشنی میں کیا جاتا ہے یہ ہی ہومیوپیتھی کا کمال ہے!!
 #فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ

Wednesday, October 21, 2020

ڈاکوس کیروٹا

 #جو لوگ رات کے اندھے پن کا شکار ہیں انہیں مستقل بنیاد پر گاجر کے استعمال سے فائدہ ہوگا

گاجر کے استعمال کی روایت  ہزار سالہ قبل مسیح میں مصر سے یونان اور روم منتقل ہوگئی وہاں تلخ اور کڑوی گاجر کھا کر  بہت سی بیماریوں کے علاج معالجے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور خاص طور پر اسے جنسی افروڈیسیاک کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا  مشہور ریکارڈ رومن شہنشاہ کالیگولا کے دور میں ہوا  جہاں  باقاعدگی سے کھانا  میں کھاتے تھے  رومیوں کو گاجر کو ابالنے اور اسے  ڈریسنگ اور مختلف جڑی بوٹیوں کے ساتھ کھانے کے لئے استعمال  کیاجاتا تھا

تیرہویں صدی تک گاجر فارس سے ایشیاء کا سفر کرتے ہوئے جاپان کے دور دراز تک پہنچی  اسی دوران  یورپی گاجر کی کاشت فرانس اور جرمنی کے باغات اور کھیتوں میں کی جانے لگی

 گاجر غذائیت سے بھرپور ہے اور اس کی مقبولیت سے پورے یورپ میں تیزی سے پھیلنے میں مدد ملی  1609 میں  نیو ورلڈ کے انگریز آباد کاروں نے اپنے پہلے شہر جیمسٹاون ، ورجینیا میں گاجر کی کاشت شروع کی (20 سال بعد پیداوار میسا چوسٹس منتقل ہوگئی برازیل پہلا جنوبی امریکہ تھا جو سترہویں صدی کے وسط میں گاجر وصول کرتا تھا  اور بعد میں گاجر   آسٹریلیا پہنچی

گاجر  غذائیت سے بھرپور سلاد سبزی ہے جس کی نشوونما پوری دنیا میں ہوتی ہے  گاجروں کو کھایا جاتا ہے  گاجریں خوشبودار ترکاریاں کے طور پر کھائی جاتی ہیں  جوس ، میٹھا ٸی اور حلوہ تیار کیا جاتا ہے  مخلوط سبزیوں کے ساتھ پکایا اور نمکین  اچار ، کیننگ اور خشک کرکے محفوظ  کیا جاتا ہے گاجر کے رنگ ، شکل ، سائز اور جڑوں کے ذائقہ میں مختلف قسمیں ہیں  گاجر میں  بیٹا کیروٹین ہوتا ہے جیسے جسم وٹامن اے میں تبدیل کرتا ہے  جو مدافعتی نظام کو مستحکم کرنے جلد ، پھیپھڑوں اور آنتوں کے ٹریک کو ترتیب میں رکھنے اور صحت مند خلیوں کی نشوونما کو فروغ دینے میں اہم ہے  بیٹا کیروٹین بنیادی طور پر گہرے سبز ، سرخ ، پیلے اور نارنگی رنگ کے پودوں میں پایا جاتا ہے  اور جسم وٹامن اے میں تبدیل کرتا  ہے 

 گاجر دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرتی ہے  ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرتی جگر کی صفائی اور جب اس کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو  جگر کو چربی اور رطوبتوں کو خارج کرنے میں مدد ملتی ہے ایچ آئی وی کی علامات کو کم کرتی ہے

 فوٹو حساسیت کو کم کرتی ہے بیٹا کیروٹین جلد کو سورج کی شعاعوں کے نقصان سے بچاتی ہے

  معمولی زخموں اور چوٹوں کو ٹھیک کرنے میں مدد کرتی انفیکشن کی روک تھام کچے گاجر  یاابلے کو اینٹی سیپٹیک کے طور پر کٹ اور زخموں پر لگایا جاتا ہے۔

   گاجرآنکھوں کی صحت کو بہتر بناتی ہے خوبصورتی کو فروغ دتی  ہےگاجر میں اینٹی آکسیڈینٹ اور وٹامن اے سے بھرپور ہوتے ہیں دونوں صحت مند جلد بالوں اور ناخن کے صحت مندی کے لٸے ضروری ہیں دانتوں کی صحت گاجر کا استعمال سے پلیٹ صاف کرکے دانتوں کی صحت کو بہتر بناتی ہے گاجر کو دانتوں سے کاٹنے سے لعاب کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے  لہذا منہ کی تیزابیت کی سطح میں توازن پیدا ہوتا ہے جو ڈینٹل کیویٹی پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو ختم کرتے ہیں انیمیا  ختم کرنے میں مدد کرتی ہے پٹھوں کے  گوشت اور جلد کی صحت کو بہتر بناتی ہے

گاجر  قوت مدافعت  میں اضافہ کرتی ہےخاص کر بوڑھے لوگوں میں اینٹی ایجنگ  ہےگاجر کو عمر رسیدہ کی غذا سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ بیٹا کیروٹین سے بھر پور ہوتی ہیں 

گاجروں کا ہر انوکھا رنگ مختلف پگمنٹ اور صحت سے متعلق فوائد رکھتا ہے  سنتری رنگ والے گاجروں میں β-کیروٹین اور کیروٹین شامل ہیں جو صحت کے نقطہ نظر اور قوت مدافعت کے نظام کے لئے اہم ہیں دل کی بیماریوں اور کینسر کے کم خطرہ سے وابستہ سرخ گاجروں میں لائکوپین ہے  پیلے رنگ کی گاجروں میں زانتھوفیلس اور لوٹین ہوتے ہیں  اس سے اتھروسکلروسیس ، میکولر انحطاط اور کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جاتا ہے کالی جامنی رنگ کے گاجروں میں اینتھوکیانینز ہوتے ہیں  جو اینٹی بیکٹیریل  اینٹی فنگسائڈیل اور اینٹی سوزش کی خصوصیات رکھتے ہیں  اور خراب کولیسٹرول کو روکتے ہیں اور سفید گاجر میں کسی پگمنٹ کی کمی ہوتی ہے اور وہ کم سے کم صحت مند ہوتے ہیں

گاجروں کے استعمال سےپیشاب میں جلن بے

 قراری ، پتھری ، مثانے کی پریشانی ، پیٹ کا اضافہ ، ورم گردہ ، السر ، امینووریا ، ایکزیما ، خارش ، جگر کا عارضہ ، کینسر ، تکلیف دہ پیشاب  ، ڈیس مینوریا ، پھوڑے ، کاربونکلس ، سکروفولا ، خراب   زخم کو ختم کرنے میں مفید ہے

 گاجر:  کا بطور دوا  استعمال کرتے ہیں  ٹونسلائٹس ، کولائٹس ، اپینڈیسائٹس ، انیمیا ،  ، تیزابیت ، خون میں زہر آلودگی ، ناقص گردش ، السر ، گٹھیا ، بدہضمی ، دودھ کا سراو بڑھانا ، خراب دانت  مہاسے ، اڈینائڈز ، کینسر وغیرہ شامل ہیں گاجروں میں بیٹا کیروٹین جسم میں وٹامن اے میں تبدیل ہوتا ہے  وٹامن اے ایک جامنی رنگ پگمنٹ بنا کر وژن کی مدد کرتا ہے جس کی آنکھ کو مدھم روشنی میں دیکھنے کے ضروری ہوتا ہے ورنک  جسے روڈوپسن کہتے ہیں  ریٹنا کے ہلکے حساس علاقے میں واقع ہے آپ کو جتنا وٹامن اے ملتا ہے  اتنا ہی آپ کے جسم میں روڈوپسن پیدا ہوجاتا ہے  اس طرح جو لوگ رات کے اندھے پن کا شکار ہیں انہیں مستقل بنیاد پر گاجر کے استعمال سے فائدہ ہوگا

  دانتوں کی ہڈیوں کی ساخت کے لئے کچی گاجر کا جوس اکسیر ہے نرسنگ ماؤں چھاتی کے دودھ کے معیار کو بڑھانے کے لئے کچی گاجر کا جوس پا لائیں اور حمل کے آخری مہینوں میں کچی گاجر کا جوس کافی مقدار میں لیا جاتا ہے اس سے بچے کی پیدائش کے موقع پر پیرپلپل سیپسس کے امکان کو کم کیا جاسکتا ہے

  گاجر قدرتی سالوینٹ بھی ہے جو السر اور کینسر کی صورتحال میں مفید ہے  یہ انفیکشن کے خلاف مزاحم ہے جو ایڈرینل غدود کے ساتھ مل کر سب سے زیادہ موثر کام کرتے ہیں یہ آنکھوں اور گلے کے ساتھ ساتھ ٹنسلز اور سینوس اور سانس کے اعضاء کو عام طور پر روکنے میں مدد کرتا ہے اس سے اعصابی نظام کی بھی حفاظت ہوتی ہے اور جوش و جذبے اور طاقت کو بڑھاوا دینے کے غیر مساوی ہے ایک اور اہم نکتہ جو ڈاکٹر واکر نے بنایا وہ یہ تھا کہ خوردبین  سےدیکھنے سے  رس شدہ گاجر کا مالیکول انسانی خون کے مالیکول کے عین مطابق ہے۔

#گاجر (Daucus carota ڈاکوس کیروٹا


)

ہومیوپیتھک ریمیڈی کی فائٹوکیمیکل اور نیوٹریشن

 رپورٹس

نباتاتی اور حیواناتی سورس کی ہومیو پیتھک سینگل میڈیشن میں قدرتی بہت سارے اجزاء ہوتے ہیں یہ ایک قدرتی کمبینیشن ہوتا ہے اس میں اپنی طرف سے کیمیا گری کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دوسری ادویات کے ساتھ کمبینیشن بنایا جاٸے تو ہر دوا اپنی شفاٸی افادیت کھو دیتی ہے اور نیا کمبینیشن نقصان دے بھی ہوسکتا ہے  

#فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ

#فائٹو کیمیکل حیاتیاتی لحاظ سے فعال مرکبات ہیں جو پودوں کے ذریعہ پرائمری اور / یا ثانوی تحول کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں جن کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے پودوں کی صحت کے ساتھ ساتھ انسان کے لئے بھی فائدہ مند ہے وہ بڑے زمروں میں درجہ بندی کی جاتی ہیں جیسے کیروٹینائڈز ، پولیفینولز اور آرگنوسلفائڈس (گلوکوسینولائٹس ، ایلیسن اور گلوٹاٹائن)

کیروٹینائڈز ٹیٹراٹرپنائڈز ، لیپڈ ہائڈرو فیلک نامیاتی روغن ہیں جو زیادہ تر پودوں ،الجی اور متعدد بیکٹیریا اور فنگس کے ذریعہ تیار ہوتے ہیں ساختی طور پر  کیروٹینائڈز بغیر کسی اضافی آکسیجن کے ساتھ یا اس کے بغیر پولین ہائیڈروکاربن چین کی شکل اختیار کرتے ہیں اور لیپوڈس (لیپوفیلک) میں گھل جاتے ہیں  جس کا نام زانتھوفیلس (لیوٹین ، زییکسانتین ، کرپٹوکسینتھین ، آسٹاکسینتھین ، وغیرہ) اور کیروٹینز ، -کیروٹین ،  بالترتیب -کیروٹین ، δ-کیروٹین ، z-زیکروٹین ، لائکوپین ، فائٹوین ، وغیرہ)۔  کیروٹینائڈز ہلکے پیلے رنگ سے لے کر گہری سرخ تک کے ہلکے رنگوں کے لئے ذمہ دار ہیں  اور 400 سے 550 نینومیٹر تک کی طول موج کو جذب کرتے ہیں (ایلدہاہشن اینڈ سنگاب  پولیفینول پودوں کے ثانوی تحول ہیں  پانی میں  ہائڈرو فیلک  فینیلایلینین یا شِیمِک ایسڈ سے حاصل کردہ ہیں جو عام طور پر رنگ ، تلخی ، حیرت انگیزی ، ذائقہ ، بو اور آکسیڈیٹیو استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

حالیہ تحقیقی  کی اکثریت کیروٹینائڈز اور انتھوکیانینز پر مرکوز ہے  پھل اور سبزیوں کی وسیع اکثریت کے رنگ کے لئے ذمہ دار دو جیو آکٹو پگمنٹ  جس میں گاجر بھی شامل ہے

پھل اور سبزیاں قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس جیسے کیروٹینائڈز ، فینولکس ، فلاوونائڈز ، وٹامن سی ، ٹکوفیرول ، آرگنوسلفائڈز کے بھرپور ذرائع ہیں اور اس طرح وہ دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتےہیں

#ایک کپ کٹی ہوئی گاجر مقدار (128 گرام)

 کیلوری سے متعلق معلومات

 منتخب شدہ مقدار کے مطابق  ڈی وی کیلوریز 52.5 (220 کے جے) 3٪ کاربوہائیڈریٹ سے 46.6 (195 کے جے) چربی سے 2.6 (10.9 کے جے) پروٹین سے 3.3 (13.8 کے جے) الکحل 0.0 (0.0 کے جے) سے

 #کاربوہائیڈریٹ

 منتخب شدہ مقدار فی فیصد  ڈی وی کل کاربوہائیڈریٹ 12.3 جی 4٪

 غذائی ریشہ 3.6 جی 14٪

 نشاستہ 1.8 جی

 شوگر 6.1 جی

 سوکروز 4596 ملی گرام

 گلوکوز 755 ملی گرام

 فریکٹوز 704 ملی گرام

 لییکٹوز 0.0 ملی گرام

 مالٹوز 0.0 ملی گرام

 گیلیکٹوز 0.0 ملی گرام

#چربی اور فیٹی ایسڈ

 منتخب شدہ مقدار جو٪ سرونگ کررہے ہیں٪ کل چربی 0.3 جی 0٪

 سیر شدہ چربی 0.0 جی 0٪

 مونو غیر سیر شدہ فیٹ 0.0 جی

 پولیونسٹریٹڈ فیٹ 0.1 جی

 کل ٹرانس فیٹی ایسڈ 0.0 جی

 کل ٹرانس مونوینوک فیٹی ایسڈ ~

 کل ٹرانس پولی پولیئن فیٹی ایسڈ ~

 کل ومیگا 3 فیٹی ایسڈ 2.6 ملی گرام

 کل ومیگا 6 فیٹی ایسڈ 147 ملی گرام

 #پروٹین اور امینو ایسڈ

 منتخب کردہ مقدار فی صد٪ پروٹین 1.2 جی 2٪

 #وٹامنز

 منتخب شدہ مقدار جو ڈی وی وٹامن اے 21383 آئی یو 428 فیصد سروسنگ کررہی ہیں

 ریٹینول 0.0 ایم سی جی

 ریٹینول سرگرمی کے برابر 1069 ایم سی جی

 الفا کیروٹین 4451 ایم سی جی

 بیٹا کیروٹین 10605 ایم سی جی

 بیٹا کریپٹوکسنتھین 0.0 ایم سی جی

 لائکوپین 1.3 ایم سی جی

 لوٹین + زییکسانتھن 328 ایم سی جی

 وٹامن سی 7.6 ملی گرام 13٪ وٹامن ڈی ~ وٹامن ای (الفا ٹوکوفرول) 0.8 ملی گرام 4٪

 بیٹا ٹوکوفرول 0.0 ملی گرام

 گاما ٹوکوفیرول 0.0 ملی گرام

 ڈیلٹا ٹوکوفرول 0.0 ملی گرام

 وٹامن کے 16.9 ایم سی جی 21٪ تھامین 0.1 ملی گرام 6٪ ربوفلوین 0.1 ملی گرام 4٪ نیاسین 1.3 ملی گرام 6٪ وٹامن بی 6 0.2 ملی گرام 9٪ فولٹ 24.3 ایم سی جی 6٪

 فوڈ فولیٹ 24.3 ایم سی جی

 فولک ایسڈ 0.0 ایم سی جی

 غذائی فولیٹ مساوات 24.3 ایم سی جی

 وٹامن بی 12 0.0 ایم سی جی 0٪ پینٹوتینک ایسڈ 0.3 ملی گرام 3٪ کولین 11.3 ملی گرام بیٹین 0.5 ملی گرام

 #منرلز

 منتخب شدہ مقدار میں ڈی وی کیلشیم سروسنگ کررہی ہے 42 ڈی وی کیلشیم .2 42..2 ملی گرام٪ آئرن 0.4 ملی گرام 2٪ میگنیشیم 15.4 ملی گرام 4٪ فاسفورس 44.8 ملی گرام 4٪ پوٹاشیم 410 ملی گرام 12٪ سوڈیم 88.3 ملی گرام 4٪ زنک 0.3 ملی گرام 2٪ کاپر 0.1 ملی گرام 3٪ مینگنیج 0.2 ملی گرام 9  ٪ سیلینیم 0.1 ایم سی جی 0٪ فلورائڈ 4.1 ایم سی جی

#سٹرولز

 منتخب شدہ مقدار فی صد٪ دی وی کولیسٹرول 0.0 ملی گرام 0٪ ​​فیٹوسٹرولز ~

#دیگر

 منتخب شدہ مقدار ڈی وی الکحل 0.0 جی پانی 113 جی راکھ 1.2 جی کیفین 0.0 ملی گرام تھیبومین 0.0 ملی گرام پیش کررہی ہے

ماخذ: اس لسٹنگ کے لئے غذائیت کا ڈیٹا یو ایس ڈی اے ایس آر 21 کے ذریعہ فراہم کیا گیا ہے۔  ہر "~" گمشدہ یا نامکمل قدر کی نشاندہی کرتا ہے۔

#ہومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی  رجسٹریشن نمبر 9027 (نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان) ...

www.nutritionisthomeopath.blogspot.com