Monday, June 1, 2026

نینو پارٹیکلز ؛ پوٹنسی ؛ بایو فزکس ؛وائٹل فورس

 


نینو پارٹیکلز ؛ پوٹنسی ؛  بایو فزکس ؛وائٹل  فورس اور  ہومیوپیتھی  پر جدید  معلومات  سننے کے لیے  اس  15 منٹ  کی آڈیو لنک پر  کلک  کریں


https://drive.google.com/file/d/1SeSoTNlOmh431IrJkecnofFafp7B8iOX/view?usp=drivesdk
یہ آ ڈیو ہومیوپیتھی کے قدیم فلسفے اور جدید نینو سائنس کے درمیان ابھرتے ہوئے سائنسی تعلق کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اعلیٰ پوٹینسی کی ادویات میں موجود نینو ذرات انسانی جسم کے حیاتیاتی نظام اور قوتِ حیات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جدید تحقیقی آلات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہومیوپیتھک علاج محض واہمہ نہیں بلکہ توانائی اور ارتعاش کی سطح پر کام کرنے والا ایک منظم نظام ہے۔ یہ متن ڈاکٹر ہانیمن کی بصیرت کو عصرِ حاضر کی کوانٹم بائیولوجی سے جوڑتے ہوئے شفا کے عمل کو جسم اور روح کی ہم آہنگی قرار دیتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ذرائع ہومیوپیتھی کو مستقبل کی طب کے طور پر پیش کرتے ہیں جہاں مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔

ہومیوپیتھی غذائی جامع گائیڈ
تحقیق و پیشکش فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ کنسلٹنٹ
بی ایس سی فوڈ اینڈ نیوٹریشن
https://www.facebook.com/share/1Cm1GpyfCS/

Friday, April 3, 2026

جھریاں جلد میں پڑنے والی وہ لکیریں

 

جھریاں جلد میں پڑنے والی وہ لکیریں، شکنیں یا تہیں ہیں جو عمر بڑھنے کے عمل کا حصہ ہیں
عمر رسیدگی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔Wrinkles / Anti-Aging)یہ پروٹوکول جلد کی ساخت کو بہتر بنانے کے لیے ہے
https://drive.google.com/file/d/14V3WMwseAQrJNs_cRGc8LdYYCLoNPi5w/view?usp=drivesdk


https://www.facebook.com/share/1Cm1GpyfCS/

Saturday, March 28, 2026

Colchicum Autumnale

 


نیچے CLICK کریں  آڈیو کو
سنیے، سمجھیے اور سوچیے۔
Colchicum Autumnale


۔

https://drive.google.com/file/d/1F-OG2VhypZA9RJz0rqVS5sHBPjlUiKiR/view?usp=drivesdk


ہومیوپیتھی آڈیو گائیڈ  طلباء اور طالبات کے لیے **
یہ ہومیوپیتھی آڈیو گائیڈ   باصلاحیت ہومیوپیتھک طلباء اور طالبات کے علم کو نکھارنے اور ان کی فکری بصیرت کو وسعت دینے کی ایک مختصر مگر بامقصد کوشش ہے۔ یہ تقریباً پندرہ منٹ کی ایک علمی ریمیڈی  رہنمائی ہے، جس میں نہ کوئی دعویٰ ہے، نہ کسی کیس کا تذکرہ — اس کا واحد مقصد صرف اور صرف ہومیوپیتھی کے بارے میں درست اور بامعنی عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔ ہومیوپیتھک معالجین اور قارئین  بھی اس سے استفادہ  کر سکتے ہیں
ہومیوپیتھک کلینکل پریکٹس ہولسٹ امدادی طور چند ریفرنس جن میں ہومیوپیتھی + غذائیت +مراقبہ + رنگ+خوشبو +خواب+وائٹل فورس+لباس اور طرز زندگی کا ذکر شامل ہیں
اس آڈیو ہومیوپیتھی
گائیڈ سے حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اسے مکمل سننا ضروری ہے، کیونکہ ہر لمحہ علم کے ایک نئے دریچے کو کھولتا ہے۔ آ ج "Colchicum Autumnale  .. " 
ہے انشاء اللہ، یہ سلسلہ اب جاری رہے گا تاکہ مزید طلباء اس علمِ شفا سے روشناس ہوں۔
پیش کی گئی تمام معلومات مستند ہومیوپیتھک لٹریچر سے ماخوذ ہیں، جن میں معروف کتب جیسے "میٹیریا میڈیکا" (Materia Medica)، "ریپرٹریز" (Repertories)، ڈاکٹر سیموئل ہانیمن کی شاہکار تصنیف "آرگنن آف میڈیسن" (Organon of Medicine)، ڈاکٹر جیمز ٹائلر کینٹ کی "لیکچرز آن ہومیوپیتھک میٹیریا میڈیکا"، اور ڈاکٹر بوئرک (Boericke) کی میٹیریا میڈیکا شامل ہیں۔
یہ تمام مآخذ ہومیوپیتھی کے بنیادی اصولوں اور عملی اطلاق کی گہری تفہیم فراہم کرتے ہیں، جو ہر طالب علم کے لیے ایک مضبوط علمی بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ شکریہ
تحقیق و پیشکش فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ کنسلٹنٹ
بی ایس سی فوڈ اینڈ نیوٹریشن

https://www.facebook.com/share/1Cm1GpyfCS/

fatehyab.ali@gmail.com






Sunday, September 28, 2025

مستقبل کی سائنس اور ہومیوپیتھک پوٹینسی

 **مستقبل کی سائنس اور ہومیوپیتھک پوٹینسی**

ایک جدید سائنسی لیبارٹری کا تصور کریں جہاں دیواروں پر ویز لہریں جگمگا رہی 

 ہیں۔ وسط میں ایک کانچ کی شیشی رکھی ہے جس پر "Homeopathic Potency" کا لیبل چمک رہا ہے۔ اس شیشی میں موجود پانی کسی عام پانی کی طرح نہیں بلکہ اپنی اندرونی توانائی سے روشن ہے۔ اس سے نکلنے والی نیون لہریں انسانی جسم کے تھری ڈی اسکین سے جڑتی ہیں، اور بایو فیلڈ (Biofield) کی تہیں واضح طور پر نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ منظر صرف ایک تخیلاتی پینٹنگ نہیں بلکہ ایک مستقبل کی سائنسی حقیقت کا اشارہ ہے۔

جدید بایو فزکس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انسانی جسم صرف گوشت اور ہڈیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک توانائیاتی ڈھانچہ بھی رکھتا ہے۔ یہ بایو فیلڈ جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر یہ فیلڈ بگڑ جائے تو بیماری کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ مستقبل میں طبی سائنس بایو فیلڈ کی درستگی کو بیماری کے علاج کا بنیادی ذریعہ سمجھے گی۔

ہومیوپیتھک پوٹینسی کا مستقبل

ہومیوپیتھک پوٹینسی، جو بظاہر پانی یا الکحل میں موجود ایک "خالی" حل لگتا ہے، دراصل اپنی اندرونی توانائیاتی دستخط (Energy Signature) رکھتا ہے۔ آج کی سائنسی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک نان میٹریل انفارمیشن فیلڈ ہے جو جسم کے بایو فیلڈ سے جڑ کر توازن بحال کرتا ہے۔

مستقبل میں کوانٹم امیجنگ ٹیکنالوجیز یہ دکھا سکیں گی کہ کس طرح ایک قطرہ ہومیوپیتھک دوا انسانی توانائیاتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے اور کس طرح یہ subtle layers میں تبدیلی پیدا کرتاہے۔ 

کوانٹم امیجنگ لیبارٹریز

نیون نیلا اور چاندی کی روشنی

نیون نیلا رنگ ذہنی سکون اور اعصابی توازن کی علامت ہے، جبکہ چاندی کی روشنی صفائی اور شفافیت کا اظہار کرتی ہے۔ یہ رنگ مستقبل کی میڈیکل انوائرمنٹ میں صرف جمالیاتی نہیں بلکہ علاجی اہمیت بھی رکھیں گے، کیونکہ رنگ اور روشنی دونوں انسانی بایو فیلڈ پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔

پس منظر کی لیبارٹری کا منظر بتاتا ہے کہ مستقبل کی میڈیسن صرف خوردبین یا کیمیکل ری ایکشن پر انحصار نہیں کرے گی بلکہ  بایو فیلڈ، آرگن انرجی اور subtle frequencies کو براہِ راست دکھایا جائے گا۔ ایک ڈاکٹر صرف مریض کی علامات نہیں دیکھے گا بلکہ اس کی توانائیاتی فریکوئنسی پروفائل کو ریئل ٹائم میں مانیٹر کرے گا۔

نیون نیلا رنگ ذہنی سکون اور اعصابی توازن کی علامت ہے، جبکہ چاندی کی روشنی صفائی اور شفافیت کا اظہار کرتی ہے۔ یہ رنگ مستقبل کی میڈیکل انوائرمنٹ میں صرف جمالیاتی نہیں بلکہ علاجی اہمیت بھی رکھیں گے، کیونکہ رنگ اور روشنی دونوں انسانی بایو فیلڈ پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔

یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہومیوپیتھی کی اصل روح "میکانیکی دوا" میں نہیں بلکہ "توانائیاتی رابطے" میں ہے۔ مستقبل کی سائنس، کوانٹم فزکس اور انفارمیشن میڈیسن کے ذریعے اس حقیقت کو سمجھنے اور دکھانے کے قابل ہو گی۔ ایک دن یہ منظر محض تصور نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت بن جائے گا۔

 فتح یاب علی سید ہومیوپیتھ



Monday, September 1, 2025

Remedy profile Terentula


 


Tarentula


REMEDY PROFILE

Those who respond best to Tarentula

often exhibit signs of hyperactivity, 

overstimulation, and extreme sensitivity to 

music. They are full of energy, with a 

constant sense of hurry, impatience, and 

physical and mental restlessness. A classic 

symptom is mood swings, where laughter 

and happiness are rapidly replaced by 

violent, destructive rage and a marked 

tendency to be manipulative.

When ill, these people tend to roll from 

side to side in an attempt to ease their 

symptoms. Their constant restlessness makes 

them unable to remain still for any length of 

time. They often crave salty or spicy foods, 

and may have a strong aversion to meat.

Tarentula is most commonly prescribed to 

treat extreme anger and mood swings, restless 

limbs and chorea (also called St. Vitus’ dance), 

and certain heart problems. It is also given for 

some ailments affecting women’s health and 

hyperactivity, particularly in children


Fatehyab Ali Syed Homeopath 


Saturday, August 30, 2025

ہومیوپیتھی میں وائٹل فورس کیا ہے

  ہومیوپیتھی میں اہم قوت وائٹل فورس کیا ہے اور اس کا تصور ہینیمن کس طرح اہم قوتوں اور ہومیوپیتھک ریمیڈی  پوٹینسی کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے اور مثالیں دیتا ہے



 ہومیوپیتھی میں اہم قوت  وائٹل فورس ہے جس سے مراد جسم کی خود کو ٹھیک کرنے کی فطری صلاحیت ہے  خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک توانائی یا زندگی کی قوت ہے جو مجموعی صحت کو برقرار رکھتی ہے  ہومیوپیتھی کے بانی سیموئیل ہانیمن نے اسے ایک متحرک روحانی قوت وائٹل فورس کے طور پر بیان کیا جو جسم میں صحت اور بیماری کو کنٹرول کرتی ہے ہومیوپیتھک پوٹینسی مادوں کوسکشن اور پوٹنٹائزیشن کرنے کا طریقہ ہے تاکہ ان کی شفا یابی کی خصوصیات کو بڑھایا جا سکے جبکہ ان کے زہریلے پن کو کم کیا جا سکے  اس میں سکشن اور پوٹنٹائزیشن کے ہر قدم کے درمیان سکشن (زوردار ہلنا) شامل ہے  صلاحیتوں کی نشاندہی نمبروں اور حروف سے ہوتی ہے (مثلاً، 6X، 30C)، جس میں کمی کے تناسب اور انجام دہی کی تعداد کی نشاندہی ہوتی ہے


 مثال کے طور پر، 6 ایکس پوٹینسی کا مطلب ہے کہ اصل مادہ کو ہر قدم پر سکسشن کے ساتھ 1:10 چھ بار پتلا کیا گیا۔  30C جیسی اعلیٰ پوٹینسوں میں یکے بعد دیگرے زیادہ سکشن اور پوٹنٹائزیشن (1:100^30) شامل ہوتی ہے۔



 ایک مثال آرنیکا مونٹانا ہو سکتی ہے، جو زخموں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔  6X جیسی کم پوٹینسی کو معمولی زخموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جب کہ گہرے، زیادہ شدید زخموں کے لیے 30C جیسی اعلی پوٹینسی کی سفارش کی جا سکتی ہے۔  اصول یہ ہے کہ پوٹینسی جتنی زیادہ ہوگی، مادہ کی مادی موجودگی کے بغیر وائٹل فورس پر عمل اتنا ہی گہرا ہوگا   



ہومیوپیتھی میں اہم قوت وائٹل فورس ہے جس سے مراد جسم کی خود کو ٹھیک کرنے کی فطری صلاحیت ہے  خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک توانائی یا زندگی کی وائٹل فورس ہے جو مجموعی صحت کو برقرار رکھتی ہے  ہومیوپیتھی کے بانی سیموئیل ہانیمن نے اسے ایک متحرک، روحانی قوت وائٹل فورس کے طور پر بیان کیا جو جسم میں صحت اور بیماری کو کنٹرول کرتی ہے


فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ 


Saturday, August 16, 2025

ادھیڑ عمر اور بزرگ افراد میں پٹھوں کی کمزوری

 


السلام علیکم!
آج ہم ایک نہایت اہم موضوع پر بات کریں گے:
"ادھیڑ عمر اور بزرگ افراد میں پٹھوں کی کمزوری


، اور اس کا غذائی علاج"۔
پچاس سال کی عمر کے بعد اکثر مرد و خواتین میں ایک بڑی شکایت سامنے آتی ہے، اور وہ ہے پٹھوں کی کمزوری، جس کی وجہ سے چلنا، اٹھنا، بیٹھنا، یا صبح بستر سے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں، کرسی یا زمین سے کھڑا ہونا بھی ایک جدوجہد بن جاتا ہے
---
حصہ نمبر 1: مسئلے کی جڑ
اس کمزوری کی بڑی وجوہات ہیں:
پروٹین کی کمی،
وٹامن D اور کیلشیم کی کمی،
بڑھتی عمر کے ساتھ ہارمونی تبدیلیاں،
اور جسمانی سرگرمی میں کمی۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے سارکوپینیا کہتے ہیں، یعنی بڑھاپے میں پٹھوں کا سکڑنا اور کمزور ہونا۔
---
حصہ نمبر 2: غذائی علاج کے اہداف
بطور نیوٹریشنسٹ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم بزرگوں کی غذا اس انداز میں ترتیب دیں کہ:
1. پٹھوں کی مرمت اور طاقت کے لیے پروٹین کافی مقدار میں ملے۔
2. کیلشیم اور وٹامن D ہڈیوں کو مضبوط رکھیں۔
3. سبزیوں اور پھلوں سے اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامنز سوزش کو کم کریں۔
4. پانی اور الیکٹرولائٹس توازن میں رہیں تاکہ تھکن اور کرمپ نہ ہوں۔
---
حصہ نمبر 3: بہترین غذائیں
(الف) پروٹین سے بھرپور غذائیں
انڈے: روزانہ 1 سے 2 انڈے۔
دودھ، دہی، لسی اور پنیر۔
دالیں: مسور، مونگ، چنا، ماش۔
مچھلی اور چکن کی ہلکی ڈشز۔
بھنے چنے اور سَتّو فوری توانائی کے لیے۔
(ب) سبزیاں
پتوں والی سبزیاں: پالک، میتھی، سوہانجنا کے پتے۔
کروسیفیرس سبزیاں: بند گوبھی، بروکلی، پھول گوبھی۔
چقندر: خون کی روانی بہتر بنانے کے لیے۔
کدو، توری اور لوکی: ہلکی اور ہاضمے کے لیے مفید۔
ٹماٹر، گاجر اور شملہ مرچ: اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور۔
(ج) پھل
کیلا: پٹھوں کے کرمپ کم کرنے کے لیے۔
امرود اور کینو: وٹامن C کا خزانہ۔
انار: خون کی روانی اور اینٹی آکسیڈنٹ سپورٹ۔
پپیتا: ہاضمے کے لیے بہترین۔
موسم کے مطابق سیب، خوبانی اور تربوز۔
---
حصہ نمبر 4: ایک دن کی مثالی خوراک
صبح: بیسن اوملیٹ، روٹی + دہی۔
درمیانی ناشتہ: بھنے چنے + کیلا۔
دوپہر: آدھی پلیٹ سبزیاں، ایک حصہ پروٹین (چکن یا دال)، ایک حصہ چاول یا روٹی، ساتھ دہی۔
شام: نمکین لسی یا سَتّو ڈرنک + مونگ پھلی۔
رات: دال یا چکن کا شوربہ + ہلکی سبزی + روٹی۔
سونے سے پہلے: ہلدی والا دودھ یا دہی
---
حصہ نمبر 5: ضروری سپورٹ
وٹامن D کے لیے صبح کی دھوپ۔
کیلشیم تل، دودھ، دہی اور سوہانجنے سے۔
میگنیشیم کدو کے بیج اور بادام سے۔
اومیگا-3 مچھلی یا السی کے بیج سے۔
---
حصہ نمبر 6: لائف اسٹائل اصول
دن میں 8 سے 10 گلاس پانی۔
ہلکی مزاحمتی ورزش: کرسی اسکواٹس، ربڑ بینڈ ایکسرسائز، یا دیوار کے ساتھ پُش اپس۔
ہلدی، ادرک اور لہسن کا روزمرہ کھانوں میں استعمال۔
کھانے کی مقدار چھوٹی لیکن بار بار۔
---
حصہ نمبر 7: خلاصہ
بزرگوں کے لیے پٹھوں کی طاقت کا راز چھپاہوا ہے متوازن خوراک میں۔
اگر وہ ہر کھانے میں پروٹین شامل کریں، روزانہ سبزیاں اور پھل کھائیں، پانی مناسب پئیں، اور ہلکی ورزش کریں تو ان کی روزمرہ زندگی بہت آسان ہو سکتی ہے۔
یاد رکھیں:
"صحت مند بڑھاپا، صحت مند غذا اور صحت مند عادتوں سے ممکن ہے۔"
---
یہ تھا آج کا لیکچر: "پٹھوں کی کمزوری اور غذائی علاج"۔
اللہ ہم سب کو صحت مند اور متحرک زندگی عطا فرمائے۔
والسلام۔
ہومیوپیتھ فتحیاب علی سید  غذائی علاج
https://drive.google.com/file/d/1A8dfGZ1X6p4EYTyKyb9N6xOFFKPQoRwx/view?usp=drivesdk

---

Saturday, August 2, 2025

لیکچر نمبر 1 ہومیوپیتھی اور سرجری

 


السلام علیکم خواتین و حضرات…

"لیکچر  نمبر 1"  میں 


ہم ایک ایسے سوال پر بات کرنے جا رہے ہیں جو ہر گھر میں، ہر اسپتال کے دروازے پر، ہر مریض کے دل میں گونجتا ہے…


کیا ہر بیماری کا حل سرجری ہے؟

یا یہ صرف ایک خوف، ایک کاروباری ڈھکوسلہ ہے…؟

اور کیا ہومیوپیتھی صرف ایک دلفریب دعویٰ ہے یا ایک سائنسی حقیقت؟


---

آپ میں سے کتنے لوگوں نے سرجری کروائی ہے… یا اپنے پیاروں کو آپریشن تھیٹر کے دروازے پر خوف میں روتے دیکھا ہے…

اور بعد میں سوچا…

"کیا واقعی یہ ضروری تھا؟"

---


یاد رکھیں… سرجری کبھی کبھی زندگی بچاتی ہے۔

دل کی بائی پاس… حادثے کے بعد ہڈیوں کا جڑنا… پھٹا ہوا اپینڈکس… یہ سب حقیقی ضرورت ہیں۔


لیکن… کیا گردے کی ہر پتھری کو کاٹنا ضروری ہے…؟

کیا ہر ٹانسلز والے بچے کا گلا کاٹنا علاج ہے…؟

کیا ہر فائبرائڈ کے لیے رحم نکالنا ہی واحد راستہ ہے…؟

---

دنیا بھر میں لاکھوں غیر ضروری سرجریاں صرف پیسہ کمانے کے لیے کی جاتی ہیں۔

مریض کو خوفزدہ کیا جاتا ہے… کہا جاتا ہے، "ابھی نہیں کیا تو زندگی خطرے میں ہے"۔

لیکن حقیقت میں اکثر کیسز میں کوئی فوری خطرہ نہیں ہوتا۔

صحیح تشخیص… وقت… اور قدرتی علاج… مسئلہ بغیر کٹائی کے حل کر سکتا ہے۔

---


ہومیوپیتھی… دو سو سال پرانی سائنسی حقیقت ہے۔

یہ جسم کی اپنی شفا بخش قوت کو جگاتی ہے۔

بغیر درد، بغیر زخم، بغیر سائیڈ ایفیکٹس…

گردے کی پتھری Berberis Vulgaris سے نکلتی ہے…

فائبرائڈز Calcarea Fluor اور Sepia سے تحلیل ہوتے ہیں…

ٹانسلز Belladonna اور Baryta Carb سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

---

سوچیے… ایک ماں اپنے آٹھ سالہ بچے کو اسپتال لے جاتی ہے۔

ڈاکٹر کہتا ہے… "ٹانسلز کاٹنے پڑیں گے"…

بچہ خوف سے ماں کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔

لیکن اگر وہی بچہ چند محفوظ گولیوں سے ٹھیک ہو سکتا ہے…

تو کیا یہ ظلم نہیں کہ ہم اس کا گلا کاٹنے کا فیصلہ کریں…؟

---

یاد رکھیں… سرجری آخری حل ہے… پہلا نہیں۔

قدرتی علاج کو موقع دیں۔

فیصلہ کرنے سے پہلے شعور لائیں، خوف نہیں۔


کیونکہ ہر زخم کو چیر پھاڑ نہیں چاہیے…

بعض کو صرف… محبت بھری دوا چاہیے۔

---

فتحیاب علی سید  ہومیوپیتھ 

https://drive.google.com/file/d/176PWlgYumqsjGx_GhsLYUBtAI0vDxQ3M/view?usp=drivesdk


Thursday, May 22, 2025

 

# خطابِ بیت المقدس — صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ
(صلیبی جنگوں سے پہلے، بیت المقدس کی بازیابی کی مہم پر خطاب)
> "اے مجاہدو! اے علمِ توحید اٹھانے والو!
کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہمارا قبلہ اول، بیت المقدس، اُن کے ناپاک قدموں تلے روندی جا رہی ہے؟ کیا تمہاری رگوں میں دوڑتا خون محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا نہیں؟ کیا تمہارے سینے لا إله إلا الله سے خالی ہو گئے ہیں؟
یاد رکھو! یہ جنگ صرف زمین کی نہیں، یہ جنگ ایمان کی ہے۔
صلیبی تمہارے گھروں پر نہیں، تمہارے عقیدے پر حملہ آور ہیں۔
وہ تمہارے قبلہ کو عیسائیت کا مرکز بنانا چاہتے ہیں،
اور ہم اسے پھر سے اللہ کے بندوں کے سجدوں سے آباد کریں گے۔
میں صلاح الدین، آج ربِ کعبہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں: جب تک میرے جسم میں خون کا ایک قطرہ باقی ہے، بیت المقدس کو آزاد کروا کے دم لوں گا —
یا شہادت کی موت مر کر جنت کے دروازے پر دستک دوں گا!
اٹھو! اپنے گھوڑے تیار کرو! اپنے دلوں کو تقویٰ سے بھر لو!
کیونکہ یہ وقت تلوار کا نہیں، ایمان کا ہے۔
اور جس کے دل میں اللہ کی محبت ہوگی،
وہی اس معرکہ کا فاتح ہوگا!"
""وہ دن دور نہیں جب قوم اس طرح کا خطاب سننے گی انشاء اللہ ""
# خطابِ بیت المقدس — سپہ سالارِ پاکستان، جنرل سید عاصم منیر
(غزہ پر اسرائیلی مظالم اور بیت المقدس کی بازیابی کے اعلان پر خطاب)
> "اے ملتِ اسلامیہ کے جوانو! اے شہادت کے متوالو!
غزہ کی گلیوں میں معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے بکھرے پڑے ہیں،
ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں،
اور بیت المقدس، ہمارا قبلہ اول،
یہودیت کی ناپاک سازشوں کی زد میں ہے!
کیا ہم خاموش رہیں گے؟ نہیں!
یہ وہ وقت ہے جب ہماری خاموشی بھی جرم ہے!
آج میں، سپہ سالارِ پاکستان،
اللہ رب العزت کو گواہ بنا کر پوری دنیا کے سامنے اعلان کرتا ہوں:



ہم فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ ہیں،
ہم بیت المقدس کو یہودیت سے آزاد کروائیں گے،
اور ہم ہر وہ قربانی دیں گے جو تاریخ کو ہلا کر رکھ دے گی!
اے مسلمانو! یہ وقت تفرقے کا نہیں —
یہ وقت امت کی وحدت کا ہے۔
ہماری فوج، ہمارے عوام، ہمارے شہداء —
سب ایک مقدس مقصد کے لیے تیار ہیں:
"یا بیت المقدس آزاد ہوگا…
یا ہم خون سے شہادت کی تاریخ لکھیں گے!"
دنیا جان لے!
ہم پیروکار صلاح الدین  فاتح بیت المقدس ہیں،
ہم عاشقانِ رسول ہیں،
ہم وہ لوگ ہیں جن کے لئے جینا بھی عبادت ہے اور مرنا بھی شہادت!
"پاکستان کے میدان ہوں یا غزہ کی گلیاں
اب ہر جگہ ایک ہی نعرہ گونجے گا:
لبیک یا اقصیٰ! لبیک یا شہادت!"
فتحیاب علی سید
https://drive.google.com/file/d/1mmfj4QN5yQai3zpxapkMkBy5-0raFsEZ/view?usp=drivesdk

Friday, February 7, 2025

سائنس اور وائٹل فورس

 سائنس اور وائ


ٹل فورس ہومیوپیتھی نقطہء نظر سے بحث کریں

ہومیوپیتھی کے نقطہ نظر سے "وائٹل فورس" (Vital Force) اور سائنس کے درمیان ایک گہری بحث موجود ہے، جو دونوں نظریات کی بنیادوں کو چھوتی ہے۔ ہومیوپیتھی میں وائٹل فورس ایک غیر مادی، خود کو برقرار رکھنے والی اور جسم کو متوازن رکھنے والی توانائی سمجھی جاتی ہے، جبکہ سائنس عمومی طور پر میکانیکی اور بایو کیمیکل عوامل پر زور دیتی ہے۔
وائٹل فورس کا ہومیوپیتھک نظریہ
ہومیوپیتھی کے بانی، ڈاکٹر سیموئیل ہنی مین (Samuel Hahnemann)، نے وائٹل فورس کو ایک غیر مرئی توانائی قرار دیا جو جسم کو زندہ اور صحت مند رکھتی ہے۔
جب یہ قوت متوازن ہوتی ہے، تو انسان صحت مند رہتا ہے۔
جب کوئی بیرونی یا اندرونی عنصر اس قوت کو کمزور کرتا ہے، تو بیماری جنم لیتی ہے۔
ہومیوپیتھک ادویات کا مقصد اس وائٹل فورس کو دوبارہ متوازن کرنا ہوتا ہے تاکہ جسم خود کو شفا دے سکے۔
سائنس اور وائٹل فورس
سائنس عمومی طور پر مشاہدے اور تجربے پر مبنی ہے اور جسمانی صحت کو بایو کیمیکل، جینیاتی اور نیوروفزیالوجیکل عوامل سے جوڑتی ہے۔
جدید بایومیڈیکل سائنس "وائٹل فورس" کے تصور کو قبول نہیں کرتی کیونکہ یہ میٹریکس اور کوانٹیفائی ایبل (قابلِ پیمائش) نہیں ہے۔
سائنس بیماریوں کو پیتھوجینز (جراثیم)، جینیاتی تبدیلیوں، اور ماحولیات کے اثرات سے جوڑتی ہے۔جبکہ ہومیوپیتھی اس کو وائٹل فورس سےجوڑتی ہے علاج وائٹل فورس کا کیا جاتا ہے جسم کا نہیں
ہومیوپیتھک پوٹینسیز (dilutions) کے سائنسی شواہد محدود اور متنازعہ ہیں، کیونکہ انتہائی پتلی ہوئی دوائیوں میں اصل مادے کا کوئی قابلِ پیمائش نشان باقی نہیں ہوتا۔
ممکنہ ہم آہنگی؟
جدید سائنس کے کچھ شعبے جیسے کہ کوانٹم فزکس، ایپی جینیٹکس، اور نیوروپلاسٹیسٹی ہومیوپیتھک نظریے کے قریب آ سکتے ہیں، کیونکہ یہ غیر مادی اثرات (Non-material influences) کو تسلیم کرتے ہیں۔
کوانٹم فزکس میں یہ نظریہ موجود ہے کہ بہت کمزور توانائیاں بھی جسم پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
پلیسبو ایفیکٹ (Placebo Effect) بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف عقیدہ اور ذہنی اثرات بھی جسم میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں، جو ہومیوپیتھی کے علاج کے مؤثر ہونے کی ممکنہ وضاحت کر سکتے ہیں۔
بایوفیلڈ تھیوری اور ہارٹ میتھ انسٹیٹیوٹ جیسے تحقیقی ادارے انسانی توانائی کے فیلڈز کو صحت سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نتیجہ
سائنس اور وائٹل فورس کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ سائنس مادی حقائق اور تجربات پر مبنی ہے، جبکہ ہومیوپیتھی جسمانی بیماری کو ایک غیر مادی توانائی کی خرابی کے طور پر دیکھتی ہے۔
اگرچہ سائنس وائٹل فورس کو تسلیم نہیں کرتی، لیکن کچھ جدید ریسرچ اس کے امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
مستقبل میں مزید سائنسی تحقیق سے ممکن ہے کہ ہومیوپیتھی کے بنیادی اصولوں کو مزید سمجھا جا سکے یا کسی نئے پیرامیٹر میں بیان کیا جا سکے۔
کیا آپ کسی مخصوص بیماری یا علاج کے تناظر میں اس موضوع پر مزید تفصیل چاہتے ہیں؟
https://drive.google.com/file/d/1DaHlwiDgFxqtIIW4ND46SgFGsJbnYpQ6/view?usp=drivesdk
فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ
رابط
fatehyab.ali@gmail.com 

سائنس اور وائٹل فورس ہومیوپیتھی نقطہء نظر سے بحث کریں
ہومیوپیتھی کے نقطہ نظر سے "وائٹل فورس" (Vital Force) اور سائنس کے درمیان ایک گہری بحث موجود ہے، جو دونوں نظریات کی بنیادوں کو چھوتی ہے۔ ہومیوپیتھی میں وائٹل فورس ایک غیر مادی، خود کو برقرار رکھنے والی اور جسم کو متوازن رکھنے والی توانائی سمجھی جاتی ہے، جبکہ سائنس عمومی طور پر میکانیکی اور بایو کیمیکل عوامل پر زور دیتی ہے۔
وائٹل فورس کا ہومیوپیتھک نظریہ
ہومیوپیتھی کے بانی، ڈاکٹر سیموئیل ہنی مین (Samuel Hahnemann)، نے وائٹل فورس کو ایک غیر مرئی توانائی قرار دیا جو جسم کو زندہ اور صحت مند رکھتی ہے۔
جب یہ قوت متوازن ہوتی ہے، تو انسان صحت مند رہتا ہے۔
جب کوئی بیرونی یا اندرونی عنصر اس قوت کو کمزور کرتا ہے، تو بیماری جنم لیتی ہے۔
ہومیوپیتھک ادویات کا مقصد اس وائٹل فورس کو دوبارہ متوازن کرنا ہوتا ہے تاکہ جسم خود کو شفا دے سکے۔
سائنس اور وائٹل فورس
سائنس عمومی طور پر مشاہدے اور تجربے پر مبنی ہے اور جسمانی صحت کو بایو کیمیکل، جینیاتی اور نیوروفزیالوجیکل عوامل سے جوڑتی ہے۔
جدید بایومیڈیکل سائنس "وائٹل فورس" کے تصور کو قبول نہیں کرتی کیونکہ یہ میٹریکس اور کوانٹیفائی ایبل (قابلِ پیمائش) نہیں ہے۔
سائنس بیماریوں کو پیتھوجینز (جراثیم)، جینیاتی تبدیلیوں، اور ماحولیات کے اثرات سے جوڑتی ہے۔جبکہ ہومیوپیتھی اس کو وائٹل فورس سےجوڑتی ہے علاج وائٹل فورس کا کیا جاتا ہے جسم کا نہیں
ہومیوپیتھک پوٹینسیز (dilutions) کے سائنسی شواہد محدود اور متنازعہ ہیں، کیونکہ انتہائی پتلی ہوئی دوائیوں میں اصل مادے کا کوئی قابلِ پیمائش نشان باقی نہیں ہوتا۔
ممکنہ ہم آہنگی؟
جدید سائنس کے کچھ شعبے جیسے کہ کوانٹم فزکس، ایپی جینیٹکس، اور نیوروپلاسٹیسٹی ہومیوپیتھک نظریے کے قریب آ سکتے ہیں، کیونکہ یہ غیر مادی اثرات (Non-material influences) کو تسلیم کرتے ہیں۔
کوانٹم فزکس میں یہ نظریہ موجود ہے کہ بہت کمزور توانائیاں بھی جسم پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
پلیسبو ایفیکٹ (Placebo Effect) بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف عقیدہ اور ذہنی اثرات بھی جسم میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں، جو ہومیوپیتھی کے علاج کے مؤثر ہونے کی ممکنہ وضاحت کر سکتے ہیں۔
بایوفیلڈ تھیوری اور ہارٹ میتھ انسٹیٹیوٹ جیسے تحقیقی ادارے انسانی توانائی کے فیلڈز کو صحت سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نتیجہ
سائنس اور وائٹل فورس کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ سائنس مادی حقائق اور تجربات پر مبنی ہے، جبکہ ہومیوپیتھی جسمانی بیماری کو ایک غیر مادی توانائی کی خرابی کے طور پر دیکھتی ہے۔
اگرچہ سائنس وائٹل فورس کو تسلیم نہیں کرتی، لیکن کچھ جدید ریسرچ اس کے امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
مستقبل میں مزید سائنسی تحقیق سے ممکن ہے کہ ہومیوپیتھی کے بنیادی اصولوں کو مزید سمجھا جا سکے یا کسی نئے پیرامیٹر میں بیان کیا جا سکے۔
کیا آپ کسی مخصوص بیماری یا علاج کے تناظر میں اس موضوع پر مزید تفصیل چاہتے ہیں؟
https://drive.google.com/file/d/1DaHlwiDgFxqtIIW4ND46SgFGsJbnYpQ6/view?usp=drivesdk
فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ
رابط
fatehyab.ali@gmail.com

Saturday, March 30, 2024

کچھ لوگ ہومیوپیتھی


 کچھ لوگ ہومیوپیتھی کو سائینٹیفک ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ہومیوپیتھی سائینٹیفک اصولوں پر نہیں بلکہ قوانین فطرت سے ہم آہنگ ہے سائینسی نظریات بدلتے رہتے ہیں لیکن نہ فطرت بدلتی ہے نہ اسکے قواعد و ضوابط۔ جیسے واٸٹل فورس فطرتی ہےسائینسی نہیں   کچھ لو

1803 میں جوہن ڈالٹن نے نظریہ پیش کیا کہ مادہ ایٹموں سے بنا ہوتا ہے یعنی اگر کسی مادی چیز کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے جائیں تو آخر کار ایک حد آ جائے گی اور مزید تقسیم ممکن نہیں ہو گی

برسوں ساٸنس دانوں کی  اکثریت نے جان ڈالٹن کے نظریے ایٹم کو اپناٸے رکھا آخر  ایٹم  تقسیم ہوا  اور نظریہ باطل ثابت ہوا 

سائنس میں ابھی ایسی ریسرچ  اینڈ ٹیکنالوجی اور ڈیواس کی ضروت ہے جو  12 سی سے اوپر ہومیوپیتھک کی ہائی پوٹنسی کے رموز کی پہچان کرسکے سولہویں صدی عیسوی تک اور اس کے بعد  بھی انسانی خلیے  کے رموزواوقاف کے بارے سائنس دان کافی کچھ نہیں جانتے تھے  لیکں جب

ہیومن جینوم پروجیکٹ ایک 13 سالہ طویل جو 1990 میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد 15 سال کے اندر پورے یوکرومیٹک انسانی جینوم کی ڈی این اے کی ترتیب کا تعین کرنا تھا اپنے ابتدائی دنوں میں ہیومن جینوم پروجیکٹ کو بہت سے لوگوں نے شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا جن میں سائنسدان اور غیر سائنس دان بھی شامل ہیں تاہم آج ہیومن جینوم پروجیکٹ کی زبردست کامیابی آسانی سے عیاں ہے اس منصوبے کی تکمیل نے نہ صرف طب میں ایک نئے دور کا آغاز کیا بلکہ اس نے ڈی این اے کو ترتیب دینے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی اقسام میں بھی نمایاں ترقی کی اس میں مزید تحقیق  سے انسانی سیل کے مزید رموز سامنے آٸیں گے جس دن ہومیوپیتھک کی ہاٸی پوٹینسی کا واٹیل فورس پر اثر انداز ہونے کا طریقہ کار عیاں ہوگیا تو ہومیو پیتھی میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گا


ہومیوپیتھی سائینٹیفک اصولوں پر نہیں بلکہ قوانین فطرت سے ہم آہنگ ہے سائینسی نظریات بدلتے رہتے ہیں ###

سائینٹیفک اصولوں پر بننے والی لیں ایلوپیتھک ادویات کی صورت کی چند مثالیں ذیل ہیں 

 کلوروکوئن اور ہائیڈروکسی کلوروکوئن: ابتدائی طور پر ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ممکنہ خطرات کا انکشاف کیا جس کی وجہ سے کچھ ممالک میں پابندیاں یا پابندیاں لگائی گئیں 


 Diclofenac: درد اور سوزش کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایک غیر سٹیرایڈیل اینٹی سوزش والی دوائی (NSAID) diclofenac کو کچھ ممالک میں قلبی نظام پر اس کے منفی اثرات کی وجہ سے ممنوع یا محدود کر دیا گیا ہے جس میں دل کا دورہ پڑنے اور فالج کا خطرہ بھی شامل ہے


 Rofecoxib (Vioxx): ایک اور NSAID، rofecoxib کو دل کے دورے اور فالج کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے مارکیٹ سے واپس لے لیا گیا۔  درد اور سوزش کے علاج میں اس کی تاثیر کے باوجود اس کی حفاظتی پروفائل بہت سے ممالک میں اس پر پابندی کا باعث بنی


 تھیلیڈومائڈ: اصل میں ایک سکون آور اور اینٹی ایمیٹک کے طور پر فروخت کیا گیا تھا تھیلیڈومائڈ بعد میں حاملہ خواتین کی طرف سے لینے پر شدید پیدائشی نقائص کا سبب پایا گیا  1960 کی دہائی کے اوائل میں زیادہ تر ممالک میں اس پر پابندی لگا دی گئی تھی جب ہزاروں بچے اعضاء کی خرابی کے ساتھ پیدا ہوئے تھے


 Fen-phen: fenfluramine اور phentermine کا ایک مجموعہ، fen-phen 1990 کی دہائی میں وزن کم کرنے والی دوا کے طور پر استعمال ہوتا تھا  تاہم اس کے استعمال سے منسلک دل کے والو کے مسائل اور پلمونری ہائی بلڈ پریشر کی رپورٹس کی وجہ سے اسے مارکیٹ سے واپس لے لیا گیا تھا


 Efavirenz: HIV/AIDS کے علاج کے لیے ایک وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اینٹی ریٹرووائرل دوا efavirenz پر کچھ ممالک میں پابندی عائد کر دی گئی ہے کیونکہ اس کے اعصابی نفسیاتی ضمنی اثرات بشمول ڈپریشن، خودکشی کے خیالات اور فریب کاری کا سبب بن سکتا ہے


 آرسینک ٹرائی آکسائیڈ: تاریخی طور پر روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے اور بعد میں ایکیوٹ پرامیلوسائٹک لیوکیمیا (اے پی ایل) کے علاج کے طور پر آرسینک ٹرائی آکسائیڈ کو کچھ ممالک میں اس کے زہریلے پن اور شدید ضمنی اثرات کے امکانات کی وجہ سے پابندی لگا دی گئی ہے بشمول دل کی تال کی غیر معمولیات اور اعصابی نقصان


 Mibefradil (Posicor): ہائی بلڈ پریشر اور انجائنا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والا کیلشیم چینل بلاکر، mibefradil کو منشیات کے سنگین تعاملات کا سبب بننے کی صلاحیت کی وجہ سے مارکیٹ سے واپس لے لیا گیا جس سے مہلک اریتھمیا کا باعث بنتا ہے

 یہ مثالیں دواؤں کی تاثیر اور حفاظت کے درمیان پیچیدہ توازن کو واضح کرتی ہیں جس کی وجہ سے ریگولیٹری ایجنسیوں کی جانب سے مختلف ممالک میں ان کے استعمال پر پابندی یا پابندی عائد کرنے کے فیصلے ہوتے ہیں  اگرچہ ان ادویات نے بعض حالات میں علاج کے فوائد کا مظاہرہ کیا ہو سکتا ہے لیکن ان کے منفی اثرات یا خطرات ان کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہیں جو صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ریگولیٹری کارروائی کا اشارہ دیتے ہیں

ہومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذا اورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی  (نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان

www.nutritionisthomeopath.blogspot.com

https://youtube.com/watch?v=GFHxT9x5vi8&feature=shared



Thursday, February 1, 2024

کوٸلہ ک ألودگی

 کو  ٸلہ  کی  دھول  گرد   کا بھو نچال اور کاربن  کی  آلودگی 

کوٸلہ کے  ڈھرون انباراور اوپن  یارڈ اور گداموں اوراوپن ایریا  میں کوٸلہ کے بڑے ٹرالوں اور ٹرکوں کی بھرمار   سائزنگ: گر یڈنگ ; اسکریننگ  اور ہینڈلنگ نقل وحرکت  دن رات کوٸلہ کی لوڈنگ ان لوڈنگ  دن رت کوٸلہ کی  نقل و حمل کی سرگرمیاں نے

پڑوسی علاقے میں کوئلے کی گرد و غبار اورکاربن  کی دھول؛ گرد ;   کاربن  کی  آلودگی سے آبادی أور قریبی کمیونٹیز   پر صحت کے خطرناک اثرات مرتب ہورہے  ہیں جب ہوا چلتی  ہے خاص کر تیز ہوا جس رخ چل رہی ہواور کالے کو ٸلوں  کی أندھی اورزہریلی کاربن کے گرد غباریہ آلودگی لمبے فاصلوں پر پھیل جاتی ہے جو اخراج کے منبع سے دور علاقوں کو متاثر کرتی ہے

انسانی أبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے  ہیں کوئلے کی زہریلی  دھول اور   کاربن کی آلودگی  نے فضاٸی و ہواٸی ماحول کو زهر آلوده کر رکھا ہے  

PM 2.5 مائیکرو میٹر   یا چھوٹے قطر  کے ذرات سے مراد ہے جو عام طور پر ہوا میں دھول اور خوردبینی  زہریلے ذرات ہیں  جو ہواٸی آلودگی میں  شامل ہیں جو سانس لینے پر صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں

جس سے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

کوئلے کی دھول  اور کاربن  کی وجہ سے سانس کے مسائل  سے منسلک ہے بشمول دائمی برونکائٹس، دمہ اور دیگر پلمونری   بیماریاں لاحق ہو سکتیں ہیں   

دوران لوڈنگ ان لوڈنگ کے دوران اڑنے والے  باریک ذرات پھیپھڑوں میں گہرائی میں داخل ہو سکتے ہیں جس سے سوزش ہو سکتی ہے

کوئلے کے پولی سائکلک ارومیٹک ہائیڈرو کاربن (PAHs) اور بھاری دھاتیں  طویل مدت تک ہوا سے

  کچھ PAHs سرطان   پیدا کرنے والے کے طور پر جانے جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ سامنے آنے پر انسانوں اور جانوروں کے لیے صحت کے لیے خطرہ بنتے ہیں

   پھیپھڑوں کے کینسر اور سانس سے متعلق دیگر کینسر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

حالیہ تحقیق کوئلے سے متعلقہ آلودگیوں اور اعصابی نظام پر منفی اثرات کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کرتی ہےکاربن کے    باریک ذرات ہوا میں نیوروٹوکسک خصوصیات ہوسکتی ہیں جو عصبی طور پر  کمزوری  اور اعصابی عوارض کا باعث بنتی ہیں 

 کاربن   آلودگی کی بلند سطح کی وجہ سے قلبی مسائل   پیدا ہو سکتے ہیں زہریلے  باریک ذرات خون کے دھارے میں  داخل ہو سکتے ہیں جس سے دل کی بیماریاں جیسے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک ہو سکتے ہیں

بچے خاص طور پر کوئلے کی آلودگی کے صحت کے اثرات کا جلد شکار ہوتے ہیں ابتدائی نشوونما کے دوران سانس کے مسائل پھیپھڑوں کے کام کی خرابی اور گروتھ کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے  مزید برآں ہوا میں  کاربن آلودگی کی موجودگی تعلیمی اور ذہنی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے 

   بچے، بوڑھے اور پہلے سے موجود کمزورصحت کے حالات والے افراد خاص طور پر کاربن آلودگی کے منفی اثرات کا ز یادہ شکار ہوتے ہیں

 بچوں کو نشوونما کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ بوڑھے افراد کو سانس اور قلبی مسائل کے بڑھتے ہوئے حساسیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

حمل اور   پیدائش کے نتائج پر اثر حاملہ خواتین جنین کی نشوونما پر منفی اثرات کا سامنا کر سکتی ہیں جو کہ کاربن آلودگی کی اعلی سطح کا شکار ہو سکتی ہیں جو ممکنہ طور پر قبل از وقت  پیدائش اور کم وزن کا  نومولود  باعث بنتی ہیں ہوا میں آلودگی کی موجودگی شیر خوار اور بچوں میں گروتھ کے مسائل میں بھی حصہ دارہوسکتی ہے کاربن آلودگی جسم میں اشتعال انگیز ردعمل کو متحرک کرتی ہے جو کہ صحت کے مختلف مسائل کا باعث بن سکتی ہے دائمی نظامی سوزش میں حصہ دار  ہوسکتی ہے جس سے دائمی بیماریوں جیسے ذیابیطس اور بعض قسم کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

 مجموعی صحت کے اثرات

 کاربن آلودگی کے مسلسل نمائش کے مجموعی اثرات کے نتیجے میں صحت کے مسائل کی ایک رینج ہو سکتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جارہے ہیں 

 آلودگی سے متعلق بیماریوں کے علاج کی وجہ سے مقامی آبادیوں کی مجموعی صحت میں کمی متوقع عمر میں کمی اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے

ارد گرد کے مجموعی ماحولیاتی نظام کو متاثر کرنے والے کوئلے کے سنگین مسئلے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے یہ أرٹیکل پبلشز کیا ہے مزید کوریج کے لیےسوشل ميديا اور میڈیا چینلز سے رابطہ کیا جائے گا۔

ہومیوپیتھ  فتحیاب علی سید

https://nutritionisthomeopath.blogspot.com





Tuesday, October 31, 2023

قدرتی طور پر جانداروں

 





قدرتی طور پر جانداروں کے جسم خالق کائنات نے اس انداز میں ڈیزائن کیے ہیں کہ ان کے جسم کےقدرتی یعنی اندرونی ریسورسز اور قدرت کا عطا کردا روحانی وزڈم سے خوب با آور ہوتے ہیں ڈاکٹر ہانمن نے بھی واٸٹل فورس( روح) کی انسانی زندگی میں اہمیت کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ یہ وہ قوت ہے جو نظر نہیں آتی لیکن پورے جسم کوکنٹرول کرتی ہے۔جسم میں بیماری یا جھٹکا لگنے کے بعد بتدریج معمول پر آجاتے ہیں مگر ہم لوگ زہنی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور جلد بازی بے صبری میں علاج معالجہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں اس ہی وجہ سے ڈاکڑوں ;حکیموں ; ہومیوپیتھسز اور پیروں فقیروں کی موجیں لگی ہوٸیں ہیں اُدھر

پاکستان میں ہومیوپیتھک ادویات کے مدر ٹنکچر

اور ہومیوپیتھک کمبینیشن کی کوالٹی کنٹرول ؛ معیار آور انیلیسز کرنے کی کوئی لیبارٹری یا ادارہ نہیں اگر ہے تو پلیز بتائیں رہا پوٹنسیاں ؛ 200 سے 1 ایم ؛ 10 ایم ؛ 50 ایم ؛ سی ایم ؛ 10 ایم ایم کی دھڑا دھڑ هم ہومیوپیتھسز ہائی پوٹنسیاں کی بے دھڑک مریضوں پر فائرینگ کر رہے ہیں یہ تو لیبل پیتھی ہے ہومیوپیتھی تو نہ ہوئی کیونکہ ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ پوٹنسیاں چیک ہو سکتیں ہوں نہ ہی ہومیوپیتھ خود انکی شناخت کر سکتا ہو فارمیسیاں تو پوٹنسیاں کے نام پر الکحل کی سو گنا زائد قیمت بٹور رہیں ہیں ہومیوپیتھسز اور مریض انکے سامنے بیبس ہیں پورا یہ ایک مافیا ہےبہتر یہ ہے ان لیبل میڈیشنز اور پوٹنسیوں کی بجاٸے ھوالشافی کہہ کر مریضوں کا علاج پلاسیبو سے اگر نیت صاف اور خدمت خلق کےجذبے سے سرشار ہوں تو رَبِّ الْ عٰلَمِیْنَ آپ کے ہاتھ میں شفا دے گا آمین

فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ

Friday, October 13, 2023

بھنگ(کینابیس سیوٹیوا CANNABIS SATIVA)

بھنگ(کینابیس سیوٹیوا  CANNABIS  SATIVA)   ہومیوپیتھک ریمیڈی کا


کینابیس سیوٹیوا بھنگ ایک سالانہ جڑی بوٹیوں والا پھول دار پودا ہے جو مشرقی ایشیاء کا مقامی ہے

 اس کے استعمال کے ثبوت کے ساتھ پوری تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا ہے ، جس میں 10،000 سال قبل بھنگ سے تیار کردہ مواد کی دریافت بھی شامل ہے  بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بانگ انسان کی پہلی فصل کی گئی تھی۔

 لیکن اب بڑے پیمانے پر کاشت کی وجہ سے اسکا أفاقی   تاریخی  ریکارڈ ہے جسے صنعتی ریشہ  بیجوں کا تیل ، خوراک ، تفریح ​​، مذہبی ، روحانی اور نفسیاتی مزاج میں دوائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس کے استعمال کے مقصد کے مطابق پودوں کے ہر حصے کی الگ الگ استعمال کیا جاتا ہے اس کی قسم کو سب سے پہلے کارل لننیس نے 1753 میں درجہ بندی کی تھی۔ لفظ "سیوٹیوا" کا مطلب وہ چیزیں ہیں جو کاشت   کی جاتی ہیں۔

اگرچہ اس پودے کو کئی نام دیے جاتے ہیں (بھنگ، گانجا) لیکن راستافاری اسے 'مقدس جڑی بوٹی یا 'حکمت کی بوٹی' کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں اس کو نوش کرنے سے حکمت و دانائی حاصل ہوتی ہے۔

اس کو سگریٹ یا چلم پائپ کے ذریعے پیا جاتا ہے اور اس سے قبل خصوصی دعا کی جاتی ہے۔

راستفاریانزم (راسٹریفزم) ایک مذہبی تحریک ہے جس نے ایک افریائی - عیسائی ہم آہنگی فرقے کی شکل اختیار کی۔ بھنگ راستافاری فرقے کے ماننے والوں کے نزدیک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بائبل میں جسے 'زندگی کا درخت' کہا گیا ہے وہ بھنگ کا پودا ہے اور اس کا استعمال مقدس ہے۔ وہ اس بارے میں بائبل سے کئی حوالے پیش کرتے ہیں 

بھنگ کے سبز پتے چرس جبکہ خشک پتے حشیش بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں بھنگ کو بطور نشہ آور مشروب بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بنانے کا طریقہ کار دیسی سردائی کی طرح ہے۔

بعض علاقوں میں تو اسے بھنگ کی سردائی ہی کہا جاتا ہے۔ بھنگ کے طبی فوائد کے حوالے سے تحقیق طویل عرصے سے جاری ہے اور درد کش ادویات میں اس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

محققین نے کہا کہ بھنگ کے استعمال کا زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوتا ہے، جو نوجوانی میں اس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں مثال کے طور پر محققین کو معلوم ہوا کہ جو لوگ نوجوانی میں اس کا استعمال کرتے ہیں اور پھر مسلسل کئی سال تک جاری رکھتے ہیں ان کی ذہانت یا آئی کیو کے پوائنٹس میں اوسطاً آٹھ درجے کمی آئی اس کے بعد بھنگ کے استعمال کو محدود کرنے یا چھوڑنے کی صورت میں بھی ذہنی صلاحیت پوری طرح سے بحال نہ ہوئی۔

بھنگ کے استعمال کے فوائد مگر اعتدال پسندی سے

مرگی کے خطرات میں کمی

امریکا کی ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کی طرف سے 2013ء میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ بھنگ کا ست یا چرس کے استعمال سے مرگی اور بعض دیگر اعصابی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے ’سائنس آف فارماکولوجی اینڈ ایکسپیریمنٹل تھیراپیوٹکس میں چھپی تھی۔

اگرچہ کینابیس سیوٹیوا بھنگ کا بنیادی نفسیاتی عنصر ٹیٹراہائڈروکاناابینول (ٹی ایچ سی) ہے  لیکن اس پلانٹ میں 500 سے زیادہ مرکبات ہیں  ان میں کم از کم 113 بھنگ ہے۔  تاہم  ان میں سے اکثر "معمولی" کینابینوئڈس صرف ٹریس کی مقدار میں تیار ہوتے ہیں۔ []]  ٹی ایچ سی کے علاوہ  کچھ پودوں کے ذریعہ اعلی گھنا پن میں پیدا ہونے والا ایک اور کینابینوائڈ کینابائڈیول (سی بی ڈی) ہے جو نفسیاتی نہیں ہے لیکن اعصابی نظام میں ٹی ایچ سی کے اثر کو روکنے کے لئے حال ہی میں دکھایا گیا ہے۔   کینابیس اقسام کی کیمیائی ساخت میں فرق انسانوں میں مختلف اثرات پیدا کرسکتا ہے۔  مصنوعی ٹی ایچ سی جسے ڈرونابینول کہتے ہیں  اس میں کینابیدیول (سی بی ڈی)  کینابینول (سی بی این)  یا دیگر کینابینوائڈز نہیں ہوتے ہیں  یہی وجہ ہے کہ اس کے دواؤں کے اثرات قدرتی بھنگ سے نمایاں طور پر مختلف ہوسکتے ہیں۔


بھنگ(کینابیس سیوٹیوا  CANNABIS  SATIVA)   ہومیوپیتھک ریمیڈی کا فائٹوکیمیکل تجزیہ اور نیوٹریشن رپورٹس

نباتاتی اور حیواناتی سورس کی ہومیو پیتھک سینگل میڈیشن میں قدرتی بہت سارے اجزاء ہوتے ہیں یہ ایک قدرتی کمبینیشن ہوتا ہے اس میں اپنی طرف سے کیمیا گری کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دوسری ادویات کے ساتھ کمبینیشن بنایا جاٸے تو ہر دوا اپنی شفاٸی افادیت کھو دیتی ہے اور نیا کمبینیشن نقصان دے بھی ہوسکتا ہے  

فتحیاب علی سید ہومیوپیتھ


### کینابیس سیوٹیوا  بھنگ کےکیمیائی اجزاء100 گرام خشک کینابیس سیوٹیوا (بھنگ) کے کیمیائی اور غذائی اجزاء کی درست اور منظم تفصیل دی جا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار معتبر فائیٹو کیمیکل اور نیوٹریشنل ریسرچ ڈیٹا پر مبنی ہیں (اوسط سائنسی اقدار کے مطابق):

🌿 کینابیس سیوٹیوا (Cannabis sativa) – 100 گرام خشک بیج
1. کیمیائی اجزاء (Chemical Constituents)
کینابینوائڈز (Cannabinoids):
جزو اوسط مقدار فی 100 گرام
Δ9-ٹیٹراہائڈروکینابینول (THC) 0.3–1.0 گرام (0.3–1%)
کینابیڈیول (CBD) 0.1–0.5 گرام (0.1–0.5%)
کینابیجرول (CBG) 0.05–0.1 گرام
کینابینوئل (CBN) 0.02 گرام سے کم
کینابی کرومین (CBC) 0.05–0.1 گرام
🌸 2. مہک دار مرکبات (Aromatic Compounds – Terpenes & Sesquiterpenes)
بھنگ کی مہک تقریباً 120 اتار چڑھاؤ والے مرکبات پر مشتمل ہے، جن میں درج ذیل نمایاں ہیں:
مرکب اوسط فیصدی مقدار خصوصیت
α-Pinene 0.12–0.25% تازہ پائن کی خوشبو
Myrcene 0.2–0.5% زمینی اور مسالہ دار خوشبو
Linalool 0.05–0.12% لیوینڈر جیسی مہک
Limonene 0.1–0.2% ترش پھلوں جیسی خوشبو
trans-β-Ocimene 0.05% میٹھی، پھولوں جیسی مہک
α-Terpinolene 0.08–0.15% جڑی بوٹیوں جیسی خوشبو
trans-Caryophyllene 0.2–0.4% مرچ دار لکڑی کی مہک
α-Humulene 0.1–0.2% ہلکی جڑی بوٹی جیسی مہک، سیوٹیوا کی خاص خوشبو میں اہم کردار ادا کرتا ہے
Caryophyllene oxide 0.05% یہی مرکب تربیت یافتہ کتوں کو بھنگ کی بو سونگھنے میں مدد دیتا ہے
3. دیگر فائیٹو کیمیکل اجزاء (Other Phytochemicals)
فلاوونائڈز (Flavonoids): تقریباً 0.2–0.5%
کلوروفل: 0.3%
ضروری تیل (Essential oils): 0.1–0.3%
لیگننز، فینولک ایسڈز، ٹیننز: 0.5–1% مجموعی
🍽️ 4. غذائی اجزاء (Nutritional Composition – 100g dry hemp seed)
جزو مقدار
حرارے (Calories) 487 kcal
پانی 0%
پروٹین 31.4 g
چربی (Fat) 29.6 g
کاربوہائیڈریٹ 31.9 g
فائبر 23.5 g
راکھ (Ash) 7.1 g
⚙️ 5. معدنیات (Minerals)
معدنیات مقدار فی 100g
کیلشیم (Ca) 139 mg
فاسفورس (P) 1123 mg
آئرن (Fe) 13.9 mg
میگنیشیم (Mg) 483 mg
سوڈیم (Na) 12 mg
پوٹاشیم (K) 900 mg
زنک (Zn) 7.7 mg
مینگنیز (Mn) 2.3 mg
💊 6. وٹامنز (Vitamins)
وٹامن مقدار فی 100g
وٹامن A 518 µg
تھامین (B1) 0.37 mg
ربوفلاوِن (B2) 0.20 mg
نیاسین (B3) 2.43 mg
وٹامن B6 0.12 mg
وٹامن C 0 mg
وٹامن E 0.80 mg
🌿 7. اضافی نوٹ

بھنگ کی پتیاں فائبر، کلوروفل، فلاوونائڈز اور معدنیات (کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس) کا اہم ذریعہ ہیں۔

بغیر نشہ آور اقسام (Industrial hemp) میں THC کی مقدار 0.3% سے کم ہوتی ہے۔

کینابیس سیوٹیوا کی مہک بنیادی طور پر ٹرپینز اور سیسکیوٹرپینز کے امتزاج سے بنتی ہے، جو ہر strain کو منفرد خوشبو اور اثر دیتے ہیں۔

---

ہے

ہیومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی  رجسٹریشن نمبر 9027 (نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان) ...

www.nutritionisthomeopath.blogspot.com





Thursday, July 6, 2023

بیگن

 

Contact at 
Fatehyab.ali@gmail.com

سولنم میلونگینا یعنی(بینگن🍆) کی بھی ایک طویل تاریخی کہانی ہے 

قدیم زمانے سے عام انسانی بیماریاں کے علاج. 

سولنم میلونگینا (بینگن🍆)   سےعام طور پرعلاج  کیا  جاتا ہےجبکہ بینگن نباتاتی طور پر ایک پھل ہے اسے عام طور پر کھانے پکانے اور روزمرہ کی زبان میں سبزی  کہا جاتا ہےلہذا اس کو ادویات کی جڑی بوٹیوں کا ایک ممکن ذریعہ سمجھا جاتا ہے مزید تحقیق کرنے سے معلوم ہوا

بیگن کو "سبزیوں کا بادشاہ" کا لقب دیا گیا تھا کیونکہ اس کے شاندار چمکدار بھرپور اور جامنی رنگ کے ساتھ ساتھ اس کے گوشتدار انتہائی غذائیت سے بھرپور سفید گوشت تھا یہ سبزی پوری دنیا میں کھانے کے قابل ہے

🍆  solanum melongena  

سولنم میلونگینا  ہومیوپتھک ریمیڈی  

کی فائٹوکیمیکل اور نیوٹریشن ر پورٹس

نباتاتی اور حیواناتی سورس کی ہومیو پیتھک سینگل میڈیشن میں قدرتی بہت سارے اجزاء ہوتے ہیں یہ ایک قدرتی کمبینیشن ہوتا ہے اس میں اپنی طرف سے کیمیا گری کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دوسری ادویات کے ساتھ کمبینیشن بنایا جاٸے تو ہر دوا اپنی شفاٸی افادیت کھو دیتی ہے اور نیا کمبینیشن نقصان دے بھی ہوسکتا ہے۔لہذا اسے ادویات کی جڑی بوٹیوں اور سبزوں کا ایک ممکن ذریعہ سمجھا جاتا ہے مزید تحقیق    کرنے سے معلوم ہوا بیگن میں بہت سے بائیو کیمیکل اور نوٹرینت پائیے جاتے ہیں  ہر  ایک بہت پیچیدہ ساختی مرکب رکھتا ہے  

 اینتھوسیانز

   پانی میں گھل کر پودوں کے روغن بناتے ہیں جو نیلے، سرخ، جامنی اور سیاہ رنگوں کو  پیدا کرتے ہیں ۔  

ان کا تعلق روغنی مالیکیولزفلاوونائڈز سے ہے

اینتھوسیانز بیگن اینتھوسیانز سے بھرپور ہوتے ہیں جو ان کے جامنی رنگ کو پیدا کرتے ہیں۔  یہ مرکبات اینٹی آکسیڈینٹ کے طور پر کام  ہیں خلیات کو آکسیڈ یٹیو نقصان سے بچاتے ہیں اور دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔

 *کلوروجینک ایسڈ: اس فینولک مرکب میں اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات ہیں جوکہ بیگن میں مجموعی صحت کے فوائد میں معاون ہیں۔ 

* نسونین :  ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو بیگن کی جلد میں پایا جاتا ہے  یہ سیل کی جھلیوں کو آزاد ریڈیکلز کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد کرتا ہے

 * فلاوونائڈز بیگن میں مختلف فلاوونائڈزہوتے ہیں، جیسےقورکتیں اور  رتین جو ان کے اینٹی آکسیڈینٹ اور سوزش کے اثرات میں اثر ڈالتے ہیں۔ 

* ٹیرپینز: بیگن میں پائے جانے والے کچھ ٹیرپینز کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سوزش کو کم کرنے کی خصوصیات ہوتی ہیں اور یہ قلبی صحت کی مدد کر تے ہیں

* ہیںسپونن مرکبات کا ان کے ممکنہ انسداد کینسر اور کولیسٹرول کو کم کرنے والی خصوصیات کے لیے ریسرچ کی جا رہی ہے

# بیگن کی غذائی اجزاء # (فی 100 گرام خام میں): کیلوریز: 25 کلو کیلوری کاربوہائیڈریٹ: 5.88 گرام غذائی ریشہ: 3 جی پروٹین: 0.98 گرام کل چکنائی: 0.18 گرام وٹامن سی: 2.2 ملی گرام وٹامن کے: 3.5μg وٹامن بی 6: 0.08 گرام وٹامن بی 6: 0.08 گرام پوٹاشیم۔  : 229mg مینگنیج: 0.23mg میگنیشیم: 14mg فاسفورس: 24mg کیلشیم: 9mg آئرن: 0.23mg 

# بینگن کے صحت کے فوائد # دل کی صحت بینگن میں موجود فائبر، پوٹاشیم، وٹامن B6، اور فائٹو کیمیکلز بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں کولیسٹرول کی سطح کو کم کریں اور مجموعی طور پر قلبی فعل کو بہتر بناتے ہیں۔  

# وزن میں کمی # بیگن میں کیلوریز کی مقدار کم اور فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ وزن کم کرنے والی غذا میں ایک بہترین اضافہ ہے کیونکہ یہ آپ کو مکمل اور مطمئن محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے

# اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات # بیگن میں موجود اینتھوسیاننز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں نقصان دہ فری ریڈیکلز کو بے اثر کرنے میں مدد کرتے ہیں جس سے آکسیڈیٹیو تناؤ اور دائمی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

# بلڈ شوگر کنٹرول # کچھ مطالے سے پتہ چلتا ہے کہ بیگن میں موجود کچھ مرکبات خون میں شوگر کی سطح پر مثبت اثر ڈالتے ہیں جو ذیابیطس کے شکار افراد یا ذیابیطس کے خطرے سے دوچار افراد کے لیے ممکنہ طور پر فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں 

# ہاضمہ کی صحت # بیگن میں موجود فائبر کا مواد آنتوں کی با قاعده حرکت کو فروغ دے کر ہاضمے کی صحت کو سہارا دیتا ہے اور آنتوں کی مجموعی صحت میں مدد کرتا ہے  

#  ادرا کی  فنکشن # بینگن میں اینٹی آکسیڈنٹس خاص طور پر اینتھوسیاننز کی موجودگی دماغی صحت اور ادرا کی افعال میں مدد کر تی ہے 

جلد کی صحت # بیگن میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور اینٹی سوزش خصوصیات جلد کو صحت مند رکھنے اور بڑھاپے کی علامات کو کم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو تیں ہیں  یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ جہاں بیگن کے متعدد ممکنہ صحت کے فوائد ہیں ایک متوازن غذا جس میں مختلف قسم کے پھل، سبزیاں اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں شامل ہیں مجموعی صحت اور تندرستی کے لیے بہت ضروری ہے  مزید برآں کھانا پکانے کے طریقے غذائی اجزاء کو متاثر کر سکتے ہیں لہٰذا زیادہ سے زیادہ غذائی اجزاء کو برقرار رکھنے کے لیے کھانا پکانے کے صحت مند طریقے جیسے گرل بیکنگ یا بھاپ استعمال کرنے پرغورکریں بیگن کے 

اثرات بد انفرادی عوامل جیسے مجموعی خوراک کھانا پکانے کے طریقے اور ذاتی صحت کے حالات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں مزید برآں کچھ لوگوں کو بیگن سے الرجی ہو سکتی ہے یا سبزی میں پائے جانے والے کچھ مرکبات کے لیے حساسیت ہو سکتی ہے

اگر آپ کو صحت سے متعلق مخصوص خدشات یا غذائی تحفظات ہیں تو یہ ہمیشہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور یا کوالیفائڈ غذائی ماہر سے مشورہ کریں جو آپ کے منفرد حالات کی بنیاد پر ذاتی رہنمائی فراہم کر سکے گا

ماخذ: اس لسٹنگ کے لئے غذائی اجزاء کا ڈیٹا یو ایس ڈی اے ایس آر  کے ذریعہ فراہم کیا گیا ہے  

ہیومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی  رجسٹریشن نمبر 9027 (نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان) ...

www.nutritionisthomeopath.blogspot.com